غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں جاری، حماس کا اہم کمانڈر شہید

غزہ: حماس کے ذرائع کے مطابق القسام بریگیڈ کے ایک سینیئر کمانڈر جمعرات کو وسطی غزہ کے علاقے دیر البلح میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔ حماس کی جانب سے ابھی تک اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی اور اسرائیلی فوج نے بھی فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں مجموعی طور پر 6 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں ایک 16 سالہ لڑکا بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر کو ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں 450 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج جنگ بندی کے باوجود فضائی بمباری، ٹینکوں سے گولہ باری، براہ راست فائرنگ اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ ایسے علاقوں میں جہاں اسرائیلی فوج موجود ہے، بلڈوزروں کے ذریعے جزوی طور پر بچی ہوئی عمارتوں کو بھی مسمار کیا جا رہا ہے۔

غزہ میں تقریباً 20 لاکھ افراد اپنے گھروں کی تباہی کے باعث خیموں یا جزوی تباہ شدہ عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج خاص طور پر ان علاقوں کو نشانہ بنا رہی ہے جہاں حماس نے دوبارہ اثر و رسوخ قائم کیا۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں 100 سے زائد بچے بھی جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں ڈرون حملوں کے متاثرہ خاندانوں کے بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اس دوران اب تک ایک واقعے میں تین اسرائیلی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔