فوٹوسوشل میڈیا
فوٹوسوشل میڈیا

امریکا نے سلامتی کونسل کو’سرکس‘بنا دیا ، روس

نیویارک: امریکا کی جانب سے بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس کے مستقل مندوب ویسلی نیبنزیا نے ٹرمپ کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

روسی مندوب نے ایران کی صورت حال پر امریکا کے بلائے گئے سلامتی کونسل اجلاس کو سستا سرکس اور ناقص تماشا قرار دیا۔

روسی مندوب نے امریکا پر ایران میں حکومت کی تبدیلی کا آپریشن چلانے کا الزام عائد  کرتے ہوئے  کہاکہ وہاں جان بوجھ کر کشیدگی، بے چینی اور انتشار پھیلا جا رہا ہے۔

اقوام متھدہ میں روسی مندوب نے مزید کہا کہ ایران میں حالیہ مظاہرے محض پُرامن احتجاج نہیں رہے بلکہ ان میں مسلح کارروائیاں، سرکاری املاک کو نذرِ آتش کرنا، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتیں شامل ہوگئی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ سب کچھ نام نہاد انقلاب کے پرانے اور آزمودہ طریقوں کے تحت ہو رہا ہے جس کا واحد مقصد ایران کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایسے ایرانی نژاد افراد کو اجلاس میں بلایا جو دو دہائیوں سے امریکا میں مقیم ہیں اور جن کا ایران کے اندرونی حالات سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں۔

روسی مندوب نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایرانی مظاہرین کو ریاستی اداروں پر قبضے کی کھلی اپیل اور مدد کی پیشکش، دراصل ایک خودمختار ملک کے آئینی نظام کو بزور طاقت تبدیل کرنے کی کھلی ترغیب ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ایران سے متعلق پیچیدہ صورت حال پر طلب کیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔