صدر زیلنسکی نے یوکرین کے فضائی دفاعی سامان کو ناکافی قرار دیا ہے اور انکشاف کیا ہے کہ جمعہ کی صبح تک کئی سسٹم خالی تھے۔صدر نے کہا کہ میں یہ کھل کر کہہ سکتا ہوں کیونکہ آج میرے پاس وہ میزائل موجود ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین کو دن کے اوائل میں ایک کافی پیکیج ملا۔
زیلنسکی نے اتحادیوں سے میزائلوں کی ترسیل تیز کرنے کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ ایسی ترسیل مراد نہیں جیسے ہمارے لیے کل موسم سرما ختم ہو جائے گا،یاکل دشمن ہم پر بمباری بند کر دے گا۔
سوشل میڈیاپریوکرینی صدر کا کہناتھاکہ کئی اہم فضائی دفاعی نظاموں کے لیے ان کا ملک اپنے مغربی شراکت داروں پر انحصار کرتا ہے، میزائلوں کی مسلسل فراہمی کی ضرورت ہے۔انہوں نے اس طرح کے گولہ بارود کا ذخیرہ کرنے والے ملکوں سے کہا کہ اگر ہم جنگ میں ہیں تو ہمیں اس کی ضرورت ہے۔ اور کچھ ممالک میں، کوئی جنگ نہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ انٹیلی جنس معلومات کے مطابق روس بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔سپلائی ناکافی ہے،ہم ان معاملات کو تیز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ ضروری ہے کہ ہمارے اتحادی ہماری بات سنیں۔
یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر شدید روسی بمباری کے دنوں کے بعد سخت سردی کے دوران ہزاروں افراد حرارت اور بجلی سے محروم ہوگئے۔دارالحکومت کے میئر نے اعلان کیا ہے کہ کیف میں اسکول فروری تک بند رہیں گےکیونکہ شہر کو توانائی کی شدید قلت کا سامنا ہے،درجہ حرارت19 سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ہزاروں اہل کارحملوں کی زد میں آنے والے پلانٹس اور سب سٹیشنوں کی مرمت کے ذریعے پورے ملک میں بجلی بحال کرنے کی تگ ودومیں لگے ہوئے ہیں۔ میئر وٹالی کلِٹسکو نے کہا کہ جنگ میں پہلی بار دارالحکومت کا بیشتر حصہ حرارت سے محروم ہواہے اور بجلی کی فراہمی بھی منقطع ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos