دمشق: شامی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ شامی فوج نے ملک کے شمال میں واقع شہر طبقہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ۔ ترجمان نے کہا کہ اس وقت مختلف علاقوں میں ’کومبنگ آپریشنز‘ جاری ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ کسی بھی قسم کے سیکیورٹی خطرات سے پاک ہیں۔
اتوار کو تین سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ شامی فوج، جو کرد قیادت والی فورسز کے خلاف برسرِ پیکار ہے، نے شام کے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے ’العمر‘ اور مشرقی علاقے میں ’کونیكو‘ گیس فیلڈ پر قبضہ کر لیا ہے۔
سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے اتوار کو العمر آئل فیلڈ سے دستبرداری اختیار کر لی، جو شام کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے، جو صوبہ دیر الزور کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔
آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمٰن نے بتایا کہ ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز اتوار کو علی الصبح مشرقی دیر الزور کے دیہی علاقوں میں ان کے زیر کنٹرول تمام علاقوں سے پیچھے ہٹ گئیں، جن میں العمر اور التنیک آئل فیلڈز شامل ہیں جبکہ دیر الزورگورنری نے ’شہریوں سے ہسپتال، اسکولوں اور سرکاری املاک جیسی سہولیات کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ کیا۔‘
اتوار کو شامی حکام نے شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) پر شمالی شام میں دریائے فرات پر دو بڑے پلوں کو اڑانے کا الزام لگایا، سرکاری خبر رساں ایجنسی ثنا کے مطابق فوج کے اعلان کے فوراً بعد جب اس نے سٹریٹجک شہر الطبقة اور ملحقہ فرات ڈیم کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جہاں کرد فورسز موجود تھیں۔
ثنا نے صوبہ الرقة کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے حوالے سے کہا کہ ’قسد نے الرقة شہر میں نیا پل (الرشید) دھماکے سے تباہ کر دیا۔ اس سے قبل اطلاع دی گئی تھی کہ قسد نے ’پرانا پل‘ بھی تباہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں الرقة شہر کو پانی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہو گئی۔
فوجی ذرائع کے مطابق شامی فوج نے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب الطبقة شہر اور سد الفرات پر قبضہ کر لیا۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ شہر میں فوجی دستے گشت کر رہے ہیں اور بکتر بند گاڑیاں تعینات ہیں، جبکہ وقفے وقفے سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
قسد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز ’دمشق کے مسلح عناصر‘ کے خلاف شدید لڑائی میں مصروف ہیں، خاص طور پر منصورہ قصبے میں جو الطبقة سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے فرات کے کنارے واقع ہے۔
الطبقة شہر، جو سد الفرات کے قریب ہے، شام کا سب سے بڑا ڈیم اور توانائی کا اہم مرکز ہے۔ یہ شہر حلب کو مشرقی شام سے جوڑنے والا اہم مواصلاتی مرکز بھی ہے اور اس کے قریب واقع فوجی فضائی اڈے کو امریکی افواج نے برسوں تک استعمال کیا۔
کرد انتظامیہ نے الرقة میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، جبکہ امریکی سینٹکام کے کمانڈر ایڈمرل براد کوپر نے شامی حکومت کو ’کسی بھی جارحانہ کارروائی‘ روکنے کی اپیل کی ہے اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔
شامی حکومت نے ایک بیان میں الزام لگایا ہے کہ ’قسد اور اس سے منسلک پی کے کے گروہوں نے الطبقة شہر میں قیدیوں کو قتل کر دیا ہے‘۔
سانا نے تصاویر جاری کی ہیں جن میں دیر الزور کے علاقے میں قسد کے انخلا کے بعد فوجی دستوں کی موجودگی دکھائی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور صرف ضرورت کے وقت باہر نکلنے کی ہدایت دی ہے۔
شامی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے الطبقة فوجی اڈے، سد الفرات، سد المنصورة اور کئی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔ فوج نے مزید بتایا کہ وہ الرقة شہر کے مغربی داخلی راستے سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچ گئی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos