چلی میں جنگلاتی آگ سے 19 ہلاک، ہنگامی حالت نافذ

چلی میں جنگلاتی آگ نے کئی آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

نوبلے اور بیوبیو کے علاقوں میں دو دن سے جاری آگ کے باعث تقریباً 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ علاقے دارالحکومت سانتیاگو سے تقریباً 500 کلومیٹر جنوب میں واقع ہیں، جہاں تیز ہواؤں اور شدید گرمی نے آگ کو مزید پھیلنے پر مجبور کیا۔ حادثے کے بعد کی ویڈیوز میں جلے ہوئے مکانات، تباہ شدہ گاڑیاں اور سنسان سڑکیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ میئر روڈریگو ویرا کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں پینکو میں ہوئی ہیں۔

قریبی بندرگاہی قصبے لیرکین میں بھی صورتحال انتہائی سنگین رہی، جہاں رہائشیوں نے بتایا کہ آگ چند سیکنڈز میں پھیل گئی اور کئی افراد سمندر کنارے بھاگ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہوئے، جبکہ زیادہ تر جائیداد تباہ ہو گئی۔

صدر گیبریل بورک نے نوبلے اور بیوبیو میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور مسلح افواج کو امدادی کارروائیوں میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے۔ تقریباً 4 ہزار فائر فائٹرز شدید گرمی کے باوجود آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صدر بورک نے متاثرہ شہر کونسیپسیون کا دورہ کر کے آپریشنز کی نگرانی کی اور متاثرہ علاقوں میں رات کے وقت کرفیو کا اعلان کیا۔

نیشنل سروس فار ڈیزاسٹر پریوینشن اینڈ ریسپانس کی ڈائریکٹر الیسیا سیبریان کے مطابق زیادہ تر انخلا بیوبیو کے قصبوں پینکو اور لیرکین میں کیا گیا، جہاں مجموعی آبادی تقریباً 60 ہزار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں جنوبی وسطی چلی میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی اور شدید موسمی حالات کے باعث ہوا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ تیز ہوا اور شدید گرمی فائر فائٹرز کے لیے مزید چیلنجز پیدا کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔