افغان سرحد پر جھڑپ:تاجکستان کا 4 دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعویٰ

تاجکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے سرحد عبور کرنے والے چار مسلح افراد کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

تاجک حکام کے مطابق یہ کارروائی جنوبی صوبے ختلون میں اس وقت کی گئی جب مسلح افراد نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے بتایا کہ تاجک سیکیورٹی فورسز نے اتوار کو کارروائی کرتے ہوئے ان افراد کو “غیر مؤثر” بنا دیا۔

تاجکستان اور افغانستان کے درمیان طویل پہاڑی سرحد واقع ہے، جہاں حالیہ مہینوں میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ نومبر کے بعد اب تک سرحدی علاقے میں کم از کم پانچ مہلک جھڑپیں ہو چکی ہیں، جن میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے، جن میں تاجک سرحدی اہلکار، چینی شہری اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں حکام دہشت گرد یا اسمگلر قرار دیتے ہیں۔

نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکومت نے افغان طالبان حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ سرحدی علاقوں میں امن قائم رکھنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ تاجکستان کا کہنا ہے کہ اس خطے میں منشیات اسمگلنگ اور مسلح گروہوں کی سرگرمیاں ایک مستقل خطرہ ہیں۔

دسمبر میں بھی تاجک-افغان سرحد پر جھڑپ کے دوران پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں تین دہشت گرد اور دو تاجک سرحدی اہلکار شامل تھے۔ تاجک حکام نے افغانستان میں داعش خراسان سے منسلک عناصر کی موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔