فائل فوٹو
فائل فوٹو

ورلڈ اکنامک فورم نے ایران کو اجلاس میں شریک ہونے سے روک دیا

ڈیووس: عالمی اقتصادی فورم نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو اس سال ڈیووس اجلاس میں شرکت کی دعوت واپس لے لی ہے۔

عباس عراقچی کی دعوت کے خلاف مظاہروں میں شدت کے بعد تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ ’اگرچہ انھیں گذشتہ موسم خزاں میں اس میٹنگ میں مدعو کیا گیا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں میں ایران میں شہریوں کی جانوں کے المناک نقصان نے ایرانی حکومت کے نمائندے کے لیے اس سال ڈیووس میں شرکت کو نامناسب بنا دیا ہے۔‘

عباس عراقچی منگل 20 جنوری کو ایک سیشن میں ایک تقریر کرنا تھی اور وہ سوال و جواب کے سیشن میں بھی مہمان تھے جس کا عنوان تھا ’ہم زیادہ تنازعات کا شکار دنیا میں کیسے تعاون کا رستہ اختیار کر سکتے ہیں؟‘

ورلڈ اکنامک فورم سوئٹزرلینڈ میں مقیم ایک غیر سرکاری، غیر منافع بخش گروپ ہے جو اپنے مشن کو عالمگیریت کے معیار کو بہتر بنانے کے طور پر بیان کرتا ہے۔

اس سال کا اجلاس، جس کا نصب العین ’مذاکرات کی روح‘ ہے، ڈیووس میں حکومت، کاروبار، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے عالمی رہنماؤں کو اکٹھا کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔