کراچی: گل پلازہ میں فائر بریگیڈ اور ریسکیو اہلکاروں کی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں گراؤنڈ فلور اور پہلے فلور کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔
کراچی کے ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کے مطابق دوسرے اور تیسرے فلور میں داخلے کی کوششیں جاری ہیں، کٹر کی مدد سے گرل کاٹے جا رہے ہیں۔ رات کے دوران مزید دو لاشیں برآمد ہونے کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 26 ہو گئی ہے جبکہ 81 افراد لاپتا ہیں، جن میں سے کچھ نام دو بار شامل ہیں۔ فی الحال 74 لاپتا افراد کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق اب تک 20 لاشیں سول اسپتال لائی گئی ہیں، جن میں سے 14 کے نمونے حاصل کیے گئے اور 7 کی شناخت مکمل ہو چکی ہے۔ شناختی عمل کے لیے 48 اہل خانہ کے نمونے سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری بھیجے گئے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی میں ڈی این اے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔
متاثرہ دکانداروں کا کہنا ہے کہ عمارت میں کُل 26 داخلی و خارجی دروازے ہیں، تاہم سانحے کے وقت معمول کے مطابق 24 دروازے بند تھے اور کوئی ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا۔ آگ کی شدت اور دھوئیں کی وجہ سے محصور افراد کو سانس لینے میں شدید دشواری ہوئی، جبکہ کچھ لوگ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ دکانداروں نے کئی افراد کو اپنی مدد آپ سے عمارت سے باہر نکالا۔
سانحے کے وقت بجلی بند تھی اور دھوئیں کے باعث منظر نامہ انتہائی ہولناک تھا، جس نے امدادی کارروائی کو بھی مشکل بنا دیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos