برطانوی حکومت کی منظوری۔یورپ میں سب سے بڑے چینی سفارت خانے کامنصوبہ کیاہے؟

 

برطانیہ نے وسطی لندن میں ایک بہت بڑا نیا چینی سفارت خانہ بنانے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، ایک خط میں، ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ نے تصدیق کی ہے کہ کچھ شرائط کے ساتھ سفارت خانہ تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

منظوری کی شرائط میں یہ شامل ہے کہ ڈویلپمنٹ کا کام تین سال کے اندر شروع ہونا چاہیے، اور اس کے لیے مقامی اداروں کا ایک اسٹیئرنگ گروپ قائم کیا جانا چاہیے جو سائٹ کے باہر ممکنہ مظاہروں سے نمٹے۔

 

منصوبے کے مخالفین کا کہناہے کہ اسے جاسوسی کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اور سیکیورٹی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔اپوزیشن جماعتوں اور لیبر کے کچھ ارکان پارلیمنٹ نے اس منصوبے کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مقامی رہائشی بھی اس کی مخالفت کرتے ہیں اور قانونی چیلنج کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔سیکیورٹی کے وزیر ڈین جارویس نے کہا کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں اس عمل کا حصہ تھیں اور وہ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پریقین ہیں۔

 

یہ فیصلہ، جس میں بار بار تاخیر ہوئی ہے، حکومت کے لیے ایک چیلنج بن گیا تھا، کیونکہ وہ بیجنگ کے ساتھ قریبی تعلقات کی خواہش اور چین سے لاحق خدشات میںتوازن قائم کرنا چاہتی ہے۔

 

یہ پیش رفت اس وقت ہورہی ہے جب وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کادورہ بیجنگ جلدمتوقع ہے، جو 2018 کے بعد برطانیہ کے کسی وزیر اعظم کا پہلاسفر ہوگا۔

 

20ہزارمربع میٹر پرلندن چین کا مجوزہ نیا سفارت خانہ یورپ میں کہیں بھی اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سفارت خانہ ہوگا۔جگہ کے لیے منظوری ایک طویل عرصہ سے چین کی ترجیح رہی ہے، جس نے 2018 میں یہ سائٹ 255 ملین پائونڈزمیں خریدی تھی۔

 

ان منصوبوں کو ابتدائی طور پر 2022 میں ٹاور ہیملیٹس کونسل نے حفاظتی خدشات پر مسترد کر دیا تھا، لیکن جب چین نے 2024 میں اپنی درخواست دوبارہ جمع کرائی تو حکومت نے اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔

 

دریں اثنا، برطانیہ بیجنگ میں برطانوی سفارت خانے کی تعمیرنو کے لیے اپنے 100ملین پائونڈلاگت کے منصوبے کا انتظار کر رہا ہے جس کی چین میں منظوری باقی ہے۔چین کے منصوبےکو مسترد کرنے سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی خطرے میں پڑسکتی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔