فائل فوٹو
فائل فوٹو

دکان میں جاں بحق 30 افراد 3 گھنٹے تک مدد کیلیے دہائیاں دیتے رہے

سید نبیل اختر :
گل پلازہ میں برتنوں کی دکان (دبئی کراکری سینٹر) میں جاں بحق افراد کے حوالے سے سب سے الم ناک پہلو یہ ہے کہ متوفیان، تین گھنٹے تک بیرونی دنیا سے رابطے میں رہے لیکن انہیں بچایا نہیں جا سکا۔ اس دوران وہ اپنے اہل خانہ، عزیز و اقارب اور دوستوں کو فون کالز اور میسجز کر کے، ان کے ذریعے مدد کی دہائیاں دیتے رہے۔ لیکن ریسکیو کی کوئی ٹیم ان تک نہیں پہنچی۔

متذکرہ دکان سے ملنے والی لاشوں کی تعداد کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ مختلف دکان داروں اور عینی شاہدین کے مطابق یہ تعداد 30 ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ یہ تعداد 22 سے 25 کے درمیان ہے۔ یہ الجھن اس لیے پیدا ہورہی ہے کہ کوئی بھی لاش اپنی اصل حالت میں نہیں ہے۔ بلکہ انسانی اعضا، ٹکڑوں میں ملے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق ہفتے کی شب سوا دس بجے آگ لگی تو کچھ ہی دیر میں ہر طرف دھواں بھر گیا۔ پہلی منزل کے ایک دکان دار کا ’’امت‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ’’جس وقت ہم دکان چھوڑ کر بھاگ رہے تھے، اس وقت ہماری شاپ کے برابر میں موجود دبئی کراکری سینٹر میں گیارہ افراد موجود تھے، جن میں ایک حاملہ خاتون سمیت تین خواتین بھی شامل تھیں۔ حاملہ خاتون کا بچہ اس کا ہاتھ تھامے ہوا تھا اور ان کے شوہر بھی موجود تھے۔ وہ آخری وقت تک دکان کے اندر ہی تھے، ان لوگوں کی موجودگی کے بارے میں کنفرم ہے، باقی دیگر افراد لاپتا ہیں۔ جب میں نیچے آیا اور پولیس کو بتایا کہ دبئی کراکری سینٹر کے اندر بہت سارے لوگ ہیں، جو ابھی زندہ ہیں۔ جب ہم مسجد کے اندر سے پیچھے کی طرف دروازہ توڑ کر نکلے تو پولیس والوں نے کہا کہ اچھا ہم دیکھتے ہیں۔ لیکن کسی نے کچھ نہیں کیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بہت ساری دکانیں آگ کی لپیٹ سے دور تھیں اور آگ کو روکا جا سکتا تھا۔ اس وقت تک کئی لوگ زندہ تھے اور فرسٹ فلور کی مسجد میں لگ بھگ چالیس لوگوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

اس وقت ایمبولینسیں بھی آرہی تھیں جن کے عملے کا خیال تھا کہ سب مر چکے ہیں اور بس ہم نے لاشیں اٹھا کر جانا ہے۔‘‘ عینی شاہد دکان دار کا مزید کہنا تھا ’’فائر فائٹرز پانی ایسے ڈال رہے تھے کہ جیسے پودوں کو پانی ڈال رہے ہوں۔ ایک گاڑی جارہی تھی تو دوسری آرہی، ایک تو کئی گاڑیاں کیوں نہیں بھیجی گئیں۔ دبئی کراکری میں احمد اور نعمت نامی بچے بھی تھے، پولیس سے فریاد کی کہ انہیں باہر نکالا جا سکتا ہے۔‘‘

ایک دوسرے دکان دار نے انکشاف کیا ’’ایک فیملی دھوئیں سے بچنے کے لیے ایئر پیک گلاس ڈور کی شاپ سے باہر ہی نہ نکلی اور انہیں ہم نے مارکیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘ عینی شاہدین کے مطابق بعض کراکری شو روم مالکان نے خود کو بھی گاہکوں کے ساتھ دکان میں بند کر لیا تھا کہ دھوئیں سے بچ جائیں، ان میں سے کسی کو زندہ حالت میں نہیں دیکھا گیا۔

’’امت‘‘ کو میٹروویل سائٹ کے رہائشی محمد قیصر نے بتایا کہ ان کی نئی نویلی بہو بھی ہوسکتا ہے کہ دبئی کراکری سینٹر میں موجود رہی ہو۔ کیونکہ وہ برتن، جوسر بلینڈر خریدنے مارکیٹ آئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے چار بیٹے ہیں، ان میں سے بڑے بیٹے کی 15 اکتوبر کو شادی کی تھی اور اللہ نے بہو کی شکل میں بیٹی عطا کی تھی جس کے بارے میں اب تک کچھ پتا نہیں چل رہا۔ ان کا شکوا تھا کہ انتظامیہ لواحقین کے لیے کچھ نہیں کررہی۔

دوسری جانب دبئی کراکری سینٹر سے نکلنے والی لاشوں اور اعضا کے ٹکڑوں کو سول اسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سمیعہ کے بقول انہیں موصول ہونے والے اعضا اور ان کے ٹکڑوں کو پروسس کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔