ڈیووس: ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کل یعنی جمعے کے روز متحدہ عرب امارات میں روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’سب کو تیار ہونا ہوگا، صرف یوکرین نہیں۔ یہ کسی بھی قسم کے مکالمے نہ ہونے سے بہتر ہے۔‘
زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعرات کو اپنی ملاقات کو ’انتہائی اہم‘ اور مثبت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امن کے حصول کے لیے امریکہ کا ’بہت مضبوط‘ کردار ضروری ہے، جبکہ یورپ بھی اثرانداز ہو سکتا ہے مگر اسے وقت درکار ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے دستاویزات ’تقریباً تیار ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ اپنے ملک کا دفاع کرنا ایک ’انتہائی مہنگا کام‘ ہے۔ انھوں نے عالمی کاروباری اداروں سے اپیل کی کہ وہ یوکرین میں سرمایہ کاری کریں اور اس یقین کے ساتھ آئیں کہ امن قائم ہوگا۔
زیلنسکی نے کہا کہ ’نوکریاں، سرمایہ، سرمایہ کاری – یہ سب یوکرین کو پیش کریں۔‘
زیلنسکی نے یورپ اور امریکہ کو روس کو میزائل پرزہ جات فروخت کرنے سے نہ روکنے پر کڑی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’یورپ خاموش ہے، امریکہ تقریباً خاموش ہے، اور پوتن میزائل بنا رہا ہے۔‘
زیلنسکی کے مطابق یورپ ایک ’خوبصورت مگر منتشر کالیڈوسکوپ‘ ہے جو چھوٹے اور درمیانے درجے کی طاقتوں میں بٹا ہوا ہے۔
یورپ کو اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی
زیلنسکی نے کہا کہ یورپ کو اپنی حفاظت کے لیے مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انھوں نے یاد دلایا کہ کئی ممالک نے دفاعی وعدے اس وقت پورے کیے جب ٹرمپ نے دباؤ ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ پیغام پوتن اور چین کو کیا دیتا ہے؟‘ اور مزید کہا کہ صرف چند فوجی بھیجنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی‘
یوکرینی صدر نے کہا کہ روسی تیل کی آمدنی جنگ کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ’اگر پوتن کے پاس پیسہ نہ ہو، تو یورپ میں جنگ نہیں ہوگی۔‘ انھوں نے تجویز دی کہ یورپ کو اپنی مسلح افواج قائم کرنی چاہئیں کیونکہ نیٹو صرف اس یقین پر قائم ہے کہ امریکہ مدد کرے گا۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’لیکن اگر امریکہ (مدد) نہ کرے تو کیا ہوگا؟
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos