امریکی بحری بیڑہ ایران کی طرف گامزن۔ ٹرمپ حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں،اسرائیلی میڈیا

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک بڑا بیڑہ ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے، تاہم انہوں نے اس امید کا اعادہ کیا کہ طاقت کا استعمال نہیں کرنا پڑے گا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اقتصادی فورم کے بعد واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئےصدارتی طیارے ،ایئر فورس ون میںصحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے پھر دعویٰ کیا کہ ایران نےان کی دھمکیوں پر 837 مظاہرین کو پھانسی دینے کا منصوبہ ختم کر دیا۔ٹرمپ کا کہناتھاکہ انہوں نے اسے منسوخ کر دیا، ملتوی نہیں کیا۔

امریکی صدرنے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارا ایک بہت بڑا بحری بیڑا اس طر جا رہا ہے، اور شاید ہمیں اسے استعمال نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ میں ہونے والی پیش رفت کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

ادھراسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کے سکیورٹی اور دفاعی اداروں نے تیاری اور چوکسی کی سطح بلند ترین درجے تک بڑھا دی ہے، یہ اقدام خطے میں بڑھتی کشیدگی اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی سے متعلق اطلاعات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

اخبار ہارٹز نے رپورٹ کیا کہ یہ ہنگامی تیاری اسرائیلی قیادت کے ان سنگین خدشات کے باعث کی گئی ہے جن کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایک اسٹریٹجک فوجی حملے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔سکیورٹی اندازوں کے مطابق یہ حملہ آئندہ چند دنوں میں عملی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس کے باعث پورا خطہ شدید خطرات کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس اداروں کے اندرونی اندازوں کے مطابق اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو تہران کی قیادت جوابی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کرے گی، تاہم سب سے بڑا خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایران امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے بجائے یا اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو براہ راست محاذ آرائی میں گھسیٹنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، جس کے لیے اسرائیلی اہداف بالخصوص تل ابیب پر میزائل حملے کیے جا سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔