امریکا نے 78 سال بعد عالمی ادارہ صحت (WHO) سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے جس سے امریکا کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ عملی تعلق مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔
امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے دوران مناسب کارکردگی نہیں دکھائی اور ادارے میں سیاسی اثرات اور اصلاحات کی کمی کے باعث وہ امریکا کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے بجائے امریکا اب دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں کے ذریعے صحت کے امور جیسے بیماریوں کی نگرانی اور ویکسین کے مسائل میں کام کرے گا۔
دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ امریکا پر 130–270 ملین ڈالر سے زائد واجبات بقایا ہیں، جو تنازعے کا حصہ بھی ہیں۔
عالمی صحت کے ماہرین نے امریکا کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے امریکا عالمی سطح پر امراض کی نگرانی اور بروقت معلومات تک رسائی کھو سکتا ہے، جو مستقبل میں وائرس یا فلو جیسے خطرات سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا 1948 میں ڈبلیو ایچ او کا بانی رکن بنا اور ادارے کے بڑے مالی معاونین میں سے رہا، جس نے ادارے کے کل بجٹ کا تقریباً 18 فیصد فراہم کیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos