فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکا میں علی لاریجانی کی بیٹی تنازع کی زد میں

واشنگٹن: امریکی جامعہ ایموری نے تصدیق کی کہ اس نے فاطمہ اردشیر لاریجانی کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔

فاطمہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی بیٹی ہیں، جن پر امریکہ نے حالیہ دنوں میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ کردار کے باعث پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف علمی حلقوں بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی بحث و تنازع کا باعث بن گیا ہے۔

یونیورسٹی کے وِن شپ کینسر انسٹی ٹیوٹ جہاں فاطمہ کام کر رہی تھیں، نے بتایا کہ ایرانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی بیٹی اب ایموری یونیورسٹی کی ملازم نہیں رہیں۔

یہ بات ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کے حوالے سے سامنے آئی۔تاہم جامعہ نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا فاطمہ کی برطرفی براہِ راست امریکی پابندیوں سے منسلک ہے یا نہیں۔

البتہ جامعہ نے کہا : ہمارے ہاں ملازمین کی تقرری ریاستی قوانین، وفاقی قوانین اور دیگر متعلقہ ضوابط کے مطابق مکمل طور پر کی جاتی ہے۔

فاطمہ ایموری یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول میں شعبۂ امراضِ خون اور طبی آنکولوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ جامعہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی تحقیق کا مرکز ”پھیپھڑوں کے کینسر میں نئے علاج اہداف کی دریافت اور مدافعتی مزاحمت کے طریقۂ کار کی نشاندہی” تھا۔تاہم ہفتے کے روز برطرفی کے فیصلے کے بعد یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے ان کا پروفائل ہٹا دیا گیا۔

اس سے قبل امریکی ریاست جارجیا سے کانگریس کے رکن پیڈی کارٹر نے اس ہفتے کے آغاز میں ان کی برطرفی اور جارجیا میں ان کا طبی لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

کارٹر نے جامعہ اور جارجیا کمپوزٹ میڈیکل بورڈ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ علی لاریجانی نے ایک اعلیٰ سیکیورٹی منصب پر رہتے ہوئے حال ہی میں ”امریکیوں اور امریکا کے اتحادیوں کے خلاف تشدد کی کھلی دعوت دی” ۔ ایسے میں ان کی بیٹی کا امریکا میں مریضوں کا علاج کرنا ناقابلِ قبول ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔