واشنگٹن: امریکی جامعہ ایموری نے تصدیق کی کہ اس نے فاطمہ اردشیر لاریجانی کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔
فاطمہ ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کی بیٹی ہیں، جن پر امریکہ نے حالیہ دنوں میں مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں مبینہ کردار کے باعث پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف علمی حلقوں بلکہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی بحث و تنازع کا باعث بن گیا ہے۔
Fatemeh Ardeshir-Larijani, daughter of Iran’s regime official Ali Larijani, is no longer listed at Emory University, following sanctions placed on her father by the Trump administration.@jasonmbrodsky pic.twitter.com/CgaTnXjwHy
— Open Source Intel (@Osint613) January 24, 2026
یونیورسٹی کے وِن شپ کینسر انسٹی ٹیوٹ جہاں فاطمہ کام کر رہی تھیں، نے بتایا کہ ایرانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی بیٹی اب ایموری یونیورسٹی کی ملازم نہیں رہیں۔
یہ بات ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کے حوالے سے سامنے آئی۔تاہم جامعہ نے اس فیصلے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ آیا فاطمہ کی برطرفی براہِ راست امریکی پابندیوں سے منسلک ہے یا نہیں۔
البتہ جامعہ نے کہا : ہمارے ہاں ملازمین کی تقرری ریاستی قوانین، وفاقی قوانین اور دیگر متعلقہ ضوابط کے مطابق مکمل طور پر کی جاتی ہے۔
فاطمہ ایموری یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول میں شعبۂ امراضِ خون اور طبی آنکولوجی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ جامعہ کی ویب سائٹ کے مطابق ان کی تحقیق کا مرکز ”پھیپھڑوں کے کینسر میں نئے علاج اہداف کی دریافت اور مدافعتی مزاحمت کے طریقۂ کار کی نشاندہی” تھا۔تاہم ہفتے کے روز برطرفی کے فیصلے کے بعد یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے ان کا پروفائل ہٹا دیا گیا۔
I wrote a letter to Emory and the Georgia Composite Medical Board demanding Dr. Fatemeh Ardeshir-Larijani's removal and the revocation of her medical license.
Her father, Ali Larijani, is a senior official of the Islamic Republic of Iran who openly calls for violence against… pic.twitter.com/DOBfVXnd24
— Buddy Carter (@RepBuddyCarter) January 22, 2026
اس سے قبل امریکی ریاست جارجیا سے کانگریس کے رکن پیڈی کارٹر نے اس ہفتے کے آغاز میں ان کی برطرفی اور جارجیا میں ان کا طبی لائسنس منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
کارٹر نے جامعہ اور جارجیا کمپوزٹ میڈیکل بورڈ کو لکھے گئے خط میں کہا کہ علی لاریجانی نے ایک اعلیٰ سیکیورٹی منصب پر رہتے ہوئے حال ہی میں ”امریکیوں اور امریکا کے اتحادیوں کے خلاف تشدد کی کھلی دعوت دی” ۔ ایسے میں ان کی بیٹی کا امریکا میں مریضوں کا علاج کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos