تل ابیب: اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا کہ غزہ میں موجود آخری باقی لاش کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے جو فوجی ران گویلی کی تھی اور یوں فلسطینی غزہ کی پٹی سے تمام قیدیوں اور لاشوں کی بازیابی مکمل ہو گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان کیپٹن ایلا نے ’ایکس‘ پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ نیشنل سینٹر فار فارنزک میڈیسن کی جانب سے شناخت کے مراحل مکمل ہونے کے بعد فوج نے مقتول مغوی ران گویلی کے اہل خانہ کو اطلاع دی کہ ان کے پیارے کی لاش واپس لا کر تدفین کے لیے حوالے کر دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح غزہ سے تمام مغویوں کی واپسی مکمل ہو چکی ہے۔
اس موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے فوج کے اعلان کے بعد کہا کہ ہم نے سب کو وعدے کے مطابق آخری قیدی تک واپس لا لیا ہے۔ انہوں نے اسے اسرائیلی فوج، اسرائیلی ریاست اور اس کے شہریوں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔
دوسری جانب حماس نے اعلان کیا کہ تبادلے کا مرحلہ اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم غزہ کی انتظامی کمیٹی کے کام میں سہولت فراہم کرنے اور اس کی کامیابی کے لیے اپنی وابستگی برقرار رکھیں گے۔
باقی ماندہ یرغمالی کی واپسی کو وسیع پیمانے پر رفح کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اشارہ ہو گا۔
تمام باقی یرغمالیوں کی واپسی چاہے وہ زندہ ہوں یا ہلاک جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا مرکزی حصہ تھی جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ جو 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکہ کی سرپرستی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے نفاذ کے بعد حماس نے 20 زندہ یرغمالی واپس کیے جبکہ 28 ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں بھی حوالے کیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos