An Indonesian search and rescue ship located the capsized wooden boat carrying Rohingya refugees as they stand on the craft's hull for safety on March 21, 2024. (Indonesian Search and Rescue Agency)

10دنوں میں تارکین وطن کی کشتیاں ڈوبنے کے واقعات سے سیکڑوں ہلاکتوں کا خدشہ

 

گزشتہ 10دنوں کے دوران بحیرہ روم میں متعدد کشتیوں کو حادثات ممکنہ طورپرسیکڑوں جانیں لے چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق،یہ تمام واقعات شدید سمندری طوفان ہیری کے دوران ہوئے۔

 

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے وسطی بحیرہ روم میں مہاجرین کی کشتیوں کو پیش آنے والے متعدد جان لیوا حادثات کی اطلاعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں سیکڑوں افراد کے ہلاک اور لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔آئی او ایم نے بتایا ہے کہ لاپتہ کشتیوں کی تلاش کا عمل جاری ہے ہلاک یا لاپتہ افراد کی حتمی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اٹلی کے جزیرے لمپیڈوسا کے ساحل پر تیونس سے آنے والی ایک کشتی کے حادثے میں تین ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جن میں تقریبا ایک سال کی دو جڑواں بچیاں بھی شامل ہیں جو ساحل پر اترنے سے کچھ دیر قبل سردی کے باعث موت کے منہ میں چلی گئیں۔ ہلاک ہونے والے تیسرے شخص کی موت بھی شدید سردی سے ہوئی۔ اس حادثے میں بچ جانے والے لوگوں نے بتایا کہ ایک اور کشتی بھی اسی مقام سے اور اسی وقت روانہ ہوئی تھی مگر وہ اپنی منزل تک نہ پہنچ سکی۔ خدشہ ہے کہ اس کشتی کو بھی حادثہ پیش آیا ہے اور اس پر سوار لوگوں کی زندگی کے حوالے سے سنگین خدشات پائے جاتے ہیں۔ مالٹا سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق، ایک تجارتی جہاز کے ذریعے بچائے گئے شخص نے بتایا کہ اس کشتی میں اس کے ساتھ موجود کم از کم 50افراد کے لاپتہ یا ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

ایک اور اطلاع کے مطابق، لیبیا کے شہر طبروق کے ساحل کے قریب ایک بحری حادثے میں کم از کم 51افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔آئی او ایم تاحال اس بارے میں سرکاری تصدیق کا منتظر ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ انسانوں کی سمگلنگ اور خریدوفروخت کے نیٹ ورکس کے خلاف سخت اور موثر کارروائی کی اشد ضرورت ہے جو منافع کے لیے بے رحمی سے جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ اس کے ساتھ، وسطی بحیرہ روم میں تلاش اور بچا کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے تاکہ زندگیوں کو تحفظ دینا اور لوگوں کو محفوظ انداز میں ساحل تک پہنچانا ممکن ہو سکے۔پیش آئے ہیں اور شدید موسمی حالات کے باعث لاپتہ افراد کی تلاش اور انہیں بچانے کی کارروائیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ ادارے نے کہا ہے کہ مہاجرین کو ناقابل سفر اور حد سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں میں سوار کر کے سمندر میں دھکیلنا بذات خود ایک مجرمانہ عمل ہے جو جرم کو مزید قابل مذمت بنا دیتا ہے کیونکہ لوگوں کو جان بوجھ کر ایسے حالات میں سمندر کے حوالے کیا گیا جہاں موت کا خطرہ تقریبا یقینی تھا۔

 

جنوبی فلپائن میں تین سوسے زائدافرادکولے جانے والی ایک بین الجزائرمال اور مسافر بردار فیری کے ڈوبنے سے سات افرادہلاک ہوگئے ہیں۔ریسکیوذرائع کے مطابق اب تک دوسوپندرہ مسافروں کوبچالیاگیاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔