کراچی : گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے کئی خواب راکھ کر دیے، لیکن ان سب میں چرچل ندیم کے والد، ندیم انجم کی کہانی سب سے زیادہ غمزدہ کر دینے والی ہے۔ ندیم انجم تین روز تک تپتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اس امید میں آگ کے شعلوں اور ملبے کو تکتے رہے کہ شاید ان کا بیٹا زندہ باہر آ جائے۔
امت ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ندیم انجم نے بتایا کہ وہ تین دن ایک قیامت کی طرح گزرے۔ تاہم، جوان بیٹے کی موت کے باوجود ان کا ایمان متزلزل نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وہ خدا کے شکر گزار ہیں کہ جہاں اس ہولناک آگ میں لوگوں کی باقیات تک نہیں ملیں، وہاں انہیں اپنے بیٹے کی میت مل گئی، جس سے انہیں آخری دیدار اور تدفین کا سکون میسر آیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos