فائل فوٹو
تصویر محمد اسحاق

سانحہ گل پلازہ کی تفصیلی انکوائری رپورٹ آگئی،تہلکہ خیز انکشافات

کراچی : نبی بخش تھانے کی حدود میں واقع  گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ المناک واقعہ کسی شارٹ سرکٹ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک کمسن بچے کی جانب سے جلائی گئی دیا سلائی (ماچس) کے باعث پیش آیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے 1153 دکانوں پر مشتمل پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق آگ رات 10 بج کر 15 منٹ پر گیٹ نمبر 6 کے قریب گرائونڈ فلور پر واقع ‘نیو توکل فلاور اینڈ گفٹ شاپ’ (دکان نمبر 193) سے شروع ہوئی۔ دکان کا مالک نعمت اللہ اس وقت موجود نہیں تھا اور اس نے اپنے 11 سالہ بیٹے حذیفہ کو دکان پر چھوڑا ہوا تھا۔ حذیفہ نے کھیل کود کے دوران دیا سلائی جلائی جو مصنوعی پھولوں پر جا گری۔ دکان میں موجود آتش گیر مواد کی وجہ سے آگ سیکنڈوں میں پھیل گئی۔ عینی شاہد طلحہ کے مطابق، مالک کی غیر موجودگی میں بچے کو دکان پر چھوڑنا اس عظیم تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے محض 5 منٹ بعد چوکیدار نے بجلی منقطع کر دی، جس سے وہاں موجود 2 سے ڈھائی ہزار افراد میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ برقی نظام بھی آگ کی شدت بڑھنے کی وجہ بنا،واقعے کے وقت گراؤنڈ فلور کے 3 سے 4 گیٹس کھلے تھے،گراؤنڈ فلور پر آگ کے باعث سیڑھیوں میں دھواں بھر گیا،راستے بند ہونے سے متعدد افراد شاپس میں محصور ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع مختلف اداروں کو درج ذیل اوقات میں موصول ہوئی، پولیس کو رات 10:30 بجے ایک راہگیر تاجر اویس نے اطلاع دی، جس پر ایس ایچ او تھانہ بنی بخش 10:32 پر پہنچ گئے۔

 رپورٹ کے مطابق ڈی سی جنوبی 10:31 پر جائے وقوعہ پہنچے اور 10:39 پر کمشنر کراچی کو مطلع کیاجبکہ  (KMC): رات 10:26 بجے اطلاع ملی۔ریسکیو 1122 کورات 10:36 بجے اطلاع ملتے ہی ایک منٹ کے اندر ہنگامی یونٹ روانہ کیا گیا جو 10:53 پر پہنچا۔

 رپورٹ کے مطابق کے ڈبلیو ایس سی (KWSC) کو رات 11:05 بجے واٹس ایپ کے ذریعے اطلاع ملی، جس پر 3 ہزار گیلن کے واٹر ٹینکرز 11:30 بجے روانہ کیے گئےلیکن اس وقت تک آگ ‘تھرڈ ڈگری’ ہو چکی تھی۔ عمارت میں فائر ایگزٹس کی عدم موجودگی اور کھڑکیوں کے اسٹیل و کنکریٹ سے بند ہونے کی وجہ سے فائرفائٹرز کو اندر داخل ہونے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق گیٹ نمبر 7: رات 10:22 بجے یہاں سے لوگوں کا انخلا شروع ہوا، جبکہ 10:36 بجے پہلی بار شعلے بھی اسی گیٹ سے نمودار ہوئے۔

 رپورٹ کے مطابق بیسمنٹ: رات 10:50 تک بیسمنٹ کے تینوں دروازے کھلے پائے گئے۔دیگر گیٹس: گیٹ نمبر 6 اور 9 کو آگ لگنے کے ابتدائی لمحات میں بند کیا گیا لیکن بعد ازاں کھول دیا گیا، جبکہ گیٹ نمبر 8 کو مشتعل لوگ توڑتے ہوئے دیکھے گئے۔

 رپورٹ کے مطابق کے دکانوں میں بڑی مقدار میں آتش گیر سامان کی موجودگی نے آگ کو تیزی سے پھیلایا۔ 1153 میں سے 1120 دکانوں کے باہر کاؤنٹرز بنے ہوئے تھے جس سے فائر فائٹرز کی نقل و حرکت محدود ہو گئی۔رپورٹ کے مطابق آگ بجھانے میں 48 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، جبکہ سرچ آپریشن 7 دن تک جاری رہااس دوران عمارت کے 3 حصے منہدم ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق ڈی سی ساؤتھ کے ہیلپ ڈیسک پر 79 افراد کی گمشدگی درج کرائی گئی۔حادثے میں جاں بحق ہونے والے 73 افراد کی باقیات نکالی گئیں، جن میں سے بیشتر ناقابل شناخت حد تک جل چکی تھیں۔ صرف 27 لاشیں ڈی این اے اور دیگر ذرائع سے شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کی جا سکیں۔

رپورٹ میں دکان دار نعمت اللہ کو شدید غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے جس نے انتہائی آتش گیر مواد (مصنوعی پھولوں) کے درمیان ایک چھوٹے بچے کو اکیلا چھوڑا۔ مزید برآں، پلازہ میں فائر سیفٹی کے اصولوں کی مکمل خلاف ورزی اور ایمرجنسی راستوں کا بند ہونا اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی اصل وجہ بنا۔ 26 جنوری صبح 11 بجے عمارت کو محفوظ قرار دے کر سیل کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔