فائل فوٹو
فائل فوٹو

ایمان مزاری ٹویٹس کیس: عدالتی فیصلے سے کون سا متنازع پیراگراف نکالا گیا؟

اسلام آباد: انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت نے معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیراگراف استغاثہ کی درخواست پر حذف کرنے کا حکم دے دیا۔

انسداد الیکٹرانک کرائم ایکٹ کی عدالت کے جج افضل مجوکہ نے استغاثہ کی درخواست پر ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کیس کے فیصلے میں ایران اور دیگر ممالک سے متعلق پیرا گراف حذف کرنے کا حکم جاری کیا۔

حکم نامے میں کہا گیا کہ فیصلے کے پیرا نمبر 36 میں موجود غلطی کی درستی کے لیے استغاثہ نے درخواست دائر کی، غلطی سے چار ممالک کا نام فیصلے میں لکھا گیا تھا اور اسٹینوگرافر نے اپنے تحریری جواب میں بتایا کہ یہ جملہ دیگر چند جملوں کے ساتھ فیصلے کی تصحیح کے دوران حذف کر دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ اسٹینوگرافر کے مطابق جملہ حتمی پرنٹ کے وقت غلطی سے دوبارہ فیصلے میں شامل ہو گیا تاہم اسٹینوگرافر کی غلطی میں بدنیتی شامل نہیں تھی۔

جج افضل مجوکہ نے فیصلے میں کہا کہ موجودہ مقدمے میں مذکورہ جملے کی کوئی قانونی حیثیت یا فریقین کے حقوق کے تعین سے کوئی تعلق نہیں بنتا لہٰذا 561 اے کے تحت عدالت اختیارات استعمال کرتے ہوئے ریکارڈ پر موجود واضح غلطی کی درستی کر سکتی ہے۔

 عدالت نے تحریری فیصلے میں جملے کو حذف کرنے کا حکم دیا اور درخواست کو مرکزی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کردی۔

واضع رہے کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے 24 جنوری کو اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ فی الحال دنیا کے چار ممالک کو دہشتگرد ریاستیں قرار دیا گیا ہے جو کیوبا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کوریا، ایران اور شام ہیں۔

جمعرات کو پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں اس فیصلے میں چار ملکوں کو دہشتگرد ریاستیں قرار دینے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’پاکستان ایسے کسی بیان یا درجہ بندی کی تائید نہیں کرتا کیونکہ اقوام متحدہ یا بین الاقوامی قانون کے تحت دہشت گرد ریاستوں کی کوئی سرکاری فہرست موجود نہیں۔‘

دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا تھا کہ ’یہ فیصلہ معزز جج کی رائے ہے۔ پاکستان یقیناً اس رائے کی تائید نہیں کرتا۔‘

یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چھٹہ کے متنازع ٹوئٹس میں 22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامے میں دونوں کو پیکا ایکٹ کے سیکن 9 کےتحت 5 سال قید، 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت  10 سال قید کی سزا اور 3 کروڑ روپے جرمانہ اور سیکشن 26 اے کے تحت 2 سال قید و 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے مجموعی طور پر دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزائیں سنائیں اور 3 کروڑ 60 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا جبکہ پیکا سیکشن 11 میں دونوں ملزمان کو بری کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔