جوناگڑھ کے نوابی خاندان کا ہتکِ عزت کا کیس،گرفتار پاکستانی یوٹیوبز کے ریمانڈ میں توسیع

 

 پاکستان میں یوٹیوبر مدثر خان کو ہتکِ عزت کے مقدمے میں گرفتار کر کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے، اور ان کے ریمانڈ میں توسیع کر دی گئی ہے۔

یہ کیس گزشتہ جون میں اپ لوڈ کی گئی یوٹیوب ویڈیو سے متعلق ہے، جس میں جوناگڑھ کے سابق نواب کے شاہی خاندان کے بارے میں مبینہ طور پر ہتک آمیز اور گمراہ کن معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ این سی سی آئی اے کے مطابق مدثر خان کو 22 جنوری کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا تھا اور 24 جنوری کو کراچی منتقل کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں 28 جنوری تک سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ کی تحویل میں بھیج دیا۔

موجودہ مقدمہ جوناگڑھ کے نواب دلاور خان جی کی بیٹی اور کراچی کی رہائشی نوابزادی عالیہ دلاور خانجی کی شکایت پر درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں مدثر خان کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کی دفعات 20، 21-ڈی اور 26-اے کے تحت مقدمہ درج ہے۔

عالیہ خانجی کے مطابق مدثر خان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایسی ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں ان کے اور جوناگڑھ کے نواب خاندان کے لیے توہین آمیز اور نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ اس ویڈیو کی وجہ سے ان کی والدہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئیں اور گزشتہ دسمبر میں وفات پا گئیں۔

عالیہ خانجی نے الزام لگایا کہ ویڈیو میں ایسا تاثر دیا گیا کہ معلومات خاندان کے کسی فرد کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں، جس سے صورتحال مزید تکلیف دہ ہو گئی۔ ایف آئی آر میں عالیہ خانجی نے اپنے بھانجے علی مرتضیٰ خانجی کو بھی نامزد کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔