بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملے ناکام،58 دہشت گرد ہلاک،10 جوان اور 5 شہری شہید

راولپنڈی: بلوچستان میں دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان کی جانب سے کیے گئے حملوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھرپور اور مؤثر جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے 58 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جبکہ ان کارروائیوں کے دوران 10 سیکیورٹی اہلکار اور 5 شہری شہید ہو گئے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ شب فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں نے بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر بیک وقت حملوں کی کوشش کی، تاہم فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام حملے ناکام بنا دیے۔ دہشت گردوں کی فائرنگ اور تشدد کے نتیجے میں گوادر کے علاقے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ مزدور خاندان کے 5 افراد شہید ہوئے، جن میں ایک خاتون اور تین بچے شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 58 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ متعدد علاقوں میں دہشت گردوں کا تعاقب اور سرچ آپریشنز تاحال جاری ہیں۔ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران مختلف جھڑپوں میں 41 دہشت گرد مارے گئے۔

سیکیورٹی اداروں کے مطابق صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، جبکہ مزید کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے فضائی نگرانی اور زمینی آپریشنز جاری رکھے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر فتنہ الہندوستان کی حمایت کرنے والا مواد دونوں کے گٹھ جوڑ کو ظاہر کرتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ انہوں نے شہید ہونے والے جوانوں کو قوم کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے جاری رہے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔