ایران کے خلاف وینزویلا جیسی امریکی کارروائی پر کیا فیصلہ ہوا؟

 

امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے کئی اہم آپشنز رکھے جا چکے ہیں، جن پر وہ حتمی فیصلہ کریں گے۔امریکی جنگی جہازوں اور طیاروں کی خطے میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے تناظر میں انتظامیہ کے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کارروائی کا بنیادی ہدف ایران کا جوہری پروگرام ہو، بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ نشانہ بنایا جائے، حکومتی نظام کو کمزور یا عدم استحکام کا شکار کیا جائے یا پھر ان تینوں اہداف کا کوئی مجموعہ اختیار کیا جائے۔ یہ بات امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے بتائی ہے۔

 

امریکی حکام نے وضاحت کی کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین سے ایسے تیز اور فیصلہ کن فوجی آپشنز طلب کیے ہیں ،جو امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل جنگ میں الجھنے کے خطرے سے دوچار نہ کریں۔ان کے مطابق مثالی آپشن وہ ہوگا ، جو ایرانی نظام کو اس قدر سخت دھچکا دے کہ اس کے پاس امریکی جوہری مطالبات ماننے اور اپوزیشن پر دباؤ ختم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچے۔اس کے ساتھ ہی حکام نے عندیہ دیا کہ ایک ایسی بمباری پر بھی بات چیت ہو رہی ہے جو ایرانی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ اگرچہ ٹرمپ بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اسٹریٹجک اہداف اور فوجی سوچ کو دانستہ طور پر مبہم رکھے ہوئے ہیں۔

 

امریکی حکام کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے متعدد بریفنگز دی گئی ہیں، جنہیں وائٹ ہاؤس اور وزارتِ دفاع (پینٹاگون) میں بیک وقت تیار کیا گیا۔ان میں ایک آپشن وہ ہے جسے ’’بڑی حکمتِ عملی‘‘ کہا جاتا ہے، جس کے تحت ایرانی نظام اور پاسدارانِ انقلاب کی تنصیبات پرشدید بمباری کی جا سکتی ہے۔دیگر آپشنز میں نسبتاً محدود نوعیت کی کارروائیاں بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے نظام کی علامتی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے،اگر تہران ٹرمپ کو مطمئن کرنے والے کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوتو حملوں میں اضافے کی گنجائش برقرار رکھی جائے۔

 

جہاں تک ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا تعلق ہے، جیسا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کی گئی کارروائی تو حکام کے مطابق ایران میں یہ عمل کہیں زیادہ مشکل ہے، کیونکہ وہاں قیادت کے تحفظ کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات ہیں اور دارالحکومت ساحلی علاقوں سے کہیں اندر واقع ہے۔

 

امریکی عہدیداروں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر خامنہ ای کو ہٹا بھی دیا جائے، تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ان کے بعد آنے والی حکومت امریکہ کے لیے زیادہ دوستانہ ہوگی۔ بعض حکام کا خیال ہے کہ اس صورت میں پاسدارانِ انقلاب کا کوئی اعلیٰ کمانڈر اقتدار سنبھال سکتا ہے، جو نظام کے سخت گیر رویے کو برقرار رکھے یا مزید شدت دے۔اسی نکتے کی تائید امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی گذشتہ بدھ سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں گفتگو کے دوران کی۔ ان کا کہنا تھا: مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی اس سوال کا سادہ جواب دے سکتا ہے کہ خامنہ ای کے ہٹنے اور نظام کے خاتمے کے بعد ایران میں کیا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔