امریکہ،ایران سے مذاکرات پر تیارلیکن حملے کے امکانات زیادہ اورقریب ہیں،اسرائیلی میڈیا

 

امریکہ اور ایران نے مبینہ طور پر ایک دوسرے کو مطلع کیا ہے کہ وہ کشیدگی کو ختم کرنے کے معاہدے پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایک سینئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس ہفتے جلد از جلد اس طرح کے مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔رپورٹ کے مطابق ترکی، مصر اور قطر اس ہفتے انقرہ میں وائٹ ہاؤس کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف اور ایرانی حکام کے درمیان ملاقات کے انعقاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

امریکی حکام نے بتایا کہ ٹرمپ کے تبصرے جس میں ڈیل کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ حقیقی ہیں اور فوجی آپریشن سے پہلے کوئی چال نہیں۔تاہم ،ایک اسرائیلی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ سال کی 12 روزہ جنگ کے دوران بھی،جو کہ ایک حیران کن اسرائیلی حملے کے ساتھ شروع ہوئی تھی ،حملے سے پہلے امریکہ کی طرف سے جاری کردہ پیغامات، بظاہر حملے کے امکان کو کم کرتے ہوئے، ایک دانستہ دھوکہ دہی کا حصہ تھے۔

امریکہ نے حال ہی میں مشرق وسطیٰ میں اپنی افواج کو تعینات کیاہے، جسے ٹرمپ نے بڑے پیمانے پر آرماڈا قرار دیا۔

ٹائمزآف اسرائیل کے مطابق ،نیتن یاہو نے اسرائیلی فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر سے ملاقات کی ہے، ضمیر ایران پر بات کرنے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ واشنگٹن میں اعلیٰ سطح ملاقاتیں کرکے واپس آئے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ وزیر دفاع کاٹز اور موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا بھی اس ملاقات کا حصہ تھے۔کاٹز اور ضمیر نے واشنگٹن میں اسرائیلی آرمی چیف کی مصروفیات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے بھی ملاقات کی۔ عبرانی میڈیا کے مطابق اس بات چیت میں یہ تاثر سامنے آیا کہ امریکہ ایک ہفتہ پہلے کی نسبت ایران پر حملہ کرنے کے زیادہ قریب ہے، حالانکہ یہ واضح نہیں کہ اس طرح کے حملے کی سطح کیا ہوگی۔

ادھر امریکی بحریہ نے کہا ہےکہ امریکی میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک جو جمعہ کو اسرائیل کے بحیرہ احمر کے بندرگاہی شہر ایلات میں لنگر انداز ہوا تھا، اب چل پڑا ہے۔
اسرائیلی ذرائع نے کہا ہے کہ مذاکرات کی طرف واضح رحجان کے باوجود، جنگ کی طرف ممکنہ واپسی کے بارے میں اندیشہ برقرار ہے۔

قبل ازیں ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھاکہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر نہیں پہنچتا تو دنیا دیکھ لے گی کہ آیا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کا یہ انتباہ درست تھا کہ امریکی حملہ علاقائی جنگ کو جنم دے گا۔صحافیوں سے گفتگومیں ایک سوال پر ان کا کہناتھاکہ وہ ایسا کیوں نہیں کہیں گے؟ یقیناً کہہ سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ لیکن ہمارے پاس دنیا کے سب سے بڑے، طاقتور ترین بحری جہاز ہیں، بہت قریب اور امید ہے کہ ہم ایک معاہدہ کر لیں گے۔اگر ہم کوئی معاہدہ نہیں کرپاتے، تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ وہ صحیح تھے۔

خامنائی نے تہران میں خطاب کرتے ہوئے کہاتھا کہ ایران کسی ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن ایرانی قوم ہر اس شخص کو سخت ضرب دے گی جو اس پر حملہ کرے گا اور اسے ہراساں کرے گا۔ انہوںنےخبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو یہ جنگ پورے خطے میں پھیل سکتی ہے۔ٹرمپ بار بار کہتے ہیں کہ وہ جنگی بیڑا لے آئے ہیں، لیکن ایرانی قوم ایسی باتوں سے خوفزدہ نہیں ہوگی اور نہ ان دھمکیوں سے مرعوب ہو گی۔

ہفتے کو صدر ٹرمپ نےکہاتھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔