عراقی خطاط نے چھ سال میں قرآنِ پاک کا عظیم نسخہ مکمل کر لیا

 

عراق سے تعلق رکھنے والے معروف خطاط علی زمان نے چھ سال کی مسلسل محنت کے بعد قرآنِ پاک کا ایک منفرد اور عظیم نسخہ مکمل کر لیا ہے۔ یہ نسخہ اپنے حجم، اندازِ تحریر اور تیاری کے طریقۂ کار کے باعث دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔

یہ قرآنی نسخہ 302 دو طرفہ صفحات پر مشتمل ہے، جن میں ہر صفحے کی لمبائی تقریباً چار میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔ ان صفحات کے لیے عام کاغذ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ خصوصی طور پر تیار کردہ موٹے پارچمنٹ نما مواد کو بروئے کار لایا گیا، جسے روایتی اجزاء جیسے انڈے، مکئی کا نشاستہ اور پھٹکری کے امتزاج سے تیار کیا گیا۔

استنبول کی ایک مسجد میں گفتگو کرتے ہوئے علی زمان نے کہا کہ اس نسخے کی تکمیل ان کے لیے ایک روحانی تجربہ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اس قرآن کے بارے میں سوچتے ہیں تو انہیں خوشی اور شکر کا احساس ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں یہ عظیم کام مکمل کرنے کے لیے زندگی عطا کی۔

اسلامی دنیا میں خطاطی کو نہایت باوقار اور مقدس فن سمجھا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ابتدا میں قرآنِ پاک کو محفوظ اور خوبصورت انداز میں تحریر کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہی فن مساجد، محلات اور تاریخی مخطوطات کی تزئین کا ذریعہ بھی بنا۔

ترکیہ میں اسلامی خطاطی کو عثمانی دور میں خصوصی سرپرستی حاصل رہی، جس کے باعث اس فن نے نمایاں ترقی کی۔ آج استنبول کو اسلامی خطاطی کا ایک اہم عالمی مرکز تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسلامی روایات میں جانداروں کی تصاویر سے گریز کے باعث خطاطی ایک اہم ذریعۂ اظہار بنی، جسے صرف فن نہیں بلکہ عبادت اور روحانی قربت کا ذریعہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

علی زمان کی پیدائش عراق کے شمالی کردستان ریجن کے شہر رانیا میں ہوئی۔ انہوں نے 2017 میں اپنے خاندان کے ہمراہ استنبول ہجرت کی تاکہ اس عظیم قرآنی منصوبے پر مکمل توجہ دے سکیں۔ ان کے مطابق ترکیہ میں اسلامی خطاطی کو زیادہ قدر اور احترام حاصل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں بچپن ہی سے خطاطی سے شغف تھا اور وہ گزشتہ چھ برس تک استنبول کی محرماہ سلطان مسجد میں فراہم کیے گئے ایک مختصر کمرے میں روزانہ طویل اوقات تک کام کرتے رہے۔

یہ نسخہ تاحال دنیا کے سب سے بڑے تحریر شدہ قرآن کے طور پر باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم اسے اسی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ فی الوقت یہ قرآنی نسخہ مسجد میں محفوظ سکرولز کی صورت میں رکھا گیا ہے اور اسے نمی اور گرد و غبار سے محفوظ رکھا جا رہا ہے۔

علی زمان کی خواہش ہے کہ یہ قرآنِ پاک کسی ایسے ملک، میوزیم یا خطاطی کے لیے مخصوص مقام پر رکھا جائے جہاں عوام اسے دیکھ سکیں اور اس عظیم فن پارے کو سراہ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔