بلوچستان حملے:دہشتگردی کیخلاف عالمی برادری پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوگئی

بلوچستان میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد عالمی برادری نے پاکستان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ متعدد اسلامی اور مغربی ممالک نے دہشت گردی کو بزدلانہ اور مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

سعودی عرب نے ان مربوط حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہنے کا اعلان کیا۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ نے حملوں میں شہید ہونے والے پاکستانی فوجیوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ہر قسم کے تشدد کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کو پاکستان کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی سازش قرار دیتے ہوئے انتہا پسندی کے خلاف پاکستان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا، جبکہ قطر نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی مقصد یا جواز کے تحت کی جانے والی دہشت گردی اور تشدد کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے بھی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ فرانس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے اور متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ان مربوط دہشت گردانہ حملوں میں عام شہریوں، پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کوئٹہ، گوادر، مستونگ، پسنی اور نوشکی میں ہونے والی ان کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 33 سے 48 افراد شہید یا زخمی ہوئے۔

سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائیوں کے دوران 40 گھنٹوں کے اندر 145 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

پاکستانی حکام نے ان حملوں کے پیچھے بھارت کی سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے، تاہم بھارتی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔