فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی ڈالر کی جگہ چینی یوآن عالمی کرنسی- کیا ہونیوالا ہے؟

لوساکا: زیمبیا نے گزشتہ ماہ سے چینی کانکنی کمپنیوں سے ٹیکس اور رائلٹی کی وصولی چینی کرنسی یوآن میں شروع کر دی ہے، جس کا مقصد براہ راست بیجنگ کو ادائیگیوں کے ذریعے ملکی معیشت پر دباؤ کم کرنا ہے۔زیمبیا ان یوآن ذخائر کو چینی درآمدات کی فنڈنگ اور چین سے لیے گئے قرضوں کی واپسی کے لیے استعمال کرے گا۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ڈالر کی شدید قلت کو دور کرنا اور قرضوں کا انتظام سنبھالنا ہے اگرچہ اسے سیاسی اتحاد کے بجائے معاشی ضرورت قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ عالمی سطح پر یوآن کو متعارف کروانے کی چینی حکمت عملی کی ایک خاموش کامیابی ہے۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ زیمبیا کا یہ ماڈل ان دیگر افریقی ممالک کے لیے ایک ‘بلیو پرنٹ’ ثابت ہو سکتا ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں لیکن قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں۔

زیمبیا کے اس فیصلے کو عالمی مالیاتی نظام میں ‘ڈی-ڈالرائزیشن’ (ڈالر پر انحصار کم کرنے) کی سمت میں ایک اہم قدم دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے نہ صرف زیمبیا کو کرنسی کے تبادلے کے اخراجات میں بچت ہوگی بلکہ چین کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر پر مبنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ یا تفصیلی رپورٹ تیار کر دوں؟.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔