فائل فوٹو
فائل فوٹو

کان کنوں کی بس پر روسی ڈرون حملے میں 15 افراد ہلاک

یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے دنیپروپیٹرووسک میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں کان کنوں کو لے جانے والی بس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث 15 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔

یوکرین کی توانائی کمپنی ڈی ٹی ای کے اور سرکاری حکام کے مطابق یہ حملہ اتوار کے روز پیش آیا۔ کمپنی نے بتایا کہ بس میں سوار تمام افراد کان سے ڈیوٹی مکمل کر کے واپس جا رہے تھے اور تمام ہلاک و زخمی افراد اسی کے ملازمین تھے۔

ڈی ٹی ای کے نے حملے کو کان پر کیا جانے والا ’’بڑے پیمانے کا دہشت گرد حملہ‘‘ قرار دیا ہے۔ یوکرین کے توانائی وزیر ڈینس شمیہال نے کہا کہ روسی افواج نے توانائی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ تیرینیوکا شہر میں پیش آیا۔ یوکرینی ایمرجنسی سروس کی جانب سے جاری فوٹیج میں تباہ شدہ بس کو سڑک سے ہٹا ہوا اور اس کے شیشے ٹوٹے ہوئے دکھایا گیا۔

اس سے قبل اتوار کے روز روسی حملوں میں زاپوریزیا شہر کے ایک زچہ و بچہ اسپتال اور رہائشی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں کم از کم 9 افراد زخمی ہوئے۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کی ثالثی میں یوکرین اور روس کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔ زیلنسکی کے مطابق روس نے توانائی کے ڈھانچے پر حملے روکنے کا کہا تھا، تاہم اس کے باوجود حملے جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔