بھارت نے دفاعی اخراجات میں 15فیصد کا اضافہ کرتے ہوئے 2026کے بجٹ میں 85ارب ڈالر سے زائد مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دفاعی اخراجات میں فوجیوں کی تنخواہیں، پنشنز، دفاعی سازو سامان کی خریداری شامل ہوگی۔بھارتی افواج کی جدت کے لیے 2.19لاکھ کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
بھارتی دفاعی بجٹ میں خصوصی توجہ دفاعی سرمایہ کاری خرچ پر دی گئی ہے جو گزشتہ سال ایک ہزار 800ارب روپے سے بڑھ کر اس سال دو ہزار 310 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، یعنی اس میں 28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت جدید ہتھیاروں کی خریداری اور ملکی دفاعی صنعت کو مضبوط کرنے پر زور دے رہی ہے۔
بھارت کی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ تقرری میں بتایا کہ فوج کی جدت کاری کے لیے دو ہزار 190 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 21.84 فیصد زیادہ ہیں۔روزمرہ فوجی اخراجات جیسے ایندھن، گولہ بارود، مرمت اور عملے کی تنخواہوں کے لیے مختص رقم میں بھی 17.24فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ فوجی پنشن کے لیے مختص بجٹ ایک ہزار 710 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ اضافہ مئی 2025میں پاکستان کے ساتھ مختصر جنگ میں شکست کے بعد بھارت کی فوجی تیاری اور جدید ہتھیاروں کی خریداری پر زور دینے کی حکومتی پالیسی کی نشاندہی کرتا ہے۔
2026 کے بجٹ میں بھارت نے بنگلادیش کے لیے مالی امداد کو نصف کردیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ بجٹ میں بنگلادیش کے لیے 1.2 ارب روپے رکھے گئے تھے تاہم 2026 کے بجٹ میں بنگلادیش کے لیے صرف 60کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔دوسری جانب بھارت نے 2026 کے بجٹ میں افغانستان کے لیے امداد میں 50 کروڑ روپے کا اضافہ کرکے 1.5 ارب روپے کردیا ہے۔
بھارتی بجٹ 2026میں بھوٹان، سری لنکا، نیپال، ماریشیس اور لاطینی امریکی ممالک کے لیے امداد میں بھی اضافہ، میانمار اور مالدیپ کے لیے امداد میں کمی کی گئی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos