بھارت کے کس بل نکل گئے۔روسی تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی پر ٹیرف میں رعایت کا امریکی اعلان

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تجارتی معاہدے پر راضی ہوگئے ہیں جس کے تحت امریکہ بھارت سے آنے والی اشیاء پر محصولات کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کر دے گا۔

 

ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، ٹرمپ نے کہا کہ بھارت نہ صرف تجارتی رکاوٹوں کو ختم کر دے گا بلکہ روسی تیل کی خریداری بھی بند کر دے گا۔ماسکوسے تیل کی خریداری روکنے سے دہلی کے انکار پرجو اضافی 25 فی صد ٹیرف جرمانہ عائدکیاگیاہے اسے ختم کر دیا جائے گا۔پوسٹ میں، ٹرمپ نے مزید کہا کہ مودی کے ساتھ صبح کی فون کال میں تجارت اور روس یوکرین جنگ کے بارے میں بات چیت شامل تھی۔ٹرمپ نے لکھاکہ وہ روسی تیل کی خریداری بند کرنے اور امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے بہت زیادہ تیل خریدنے پر راضی ہو گئے۔

 

امریکی صدر نے مزید کہا کہ، مودی کی درخواست پر، وہ فوری طور پر تجارتی معاہدے کے لیے راضی ہو گئے ہیںجس میں ٹیرف کو کم کیا جائے گا اوربھارت کے ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹوں کو صفر کر دیا جائے گا۔مزید برآں، ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے500ارب ڈالرسے زیادہ مالیت کی امریکی اشیاء بشمول توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت اور کوئلے کی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا ہے۔

 

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نےتصدیق کی ہے کہ اس معاہدے کے تحت بھارت پر روسی تیل سے منسلک ٹیرف کو ختم کر دیا جائے گا اور دیگر ٹیرف کو کم کر کے 18 فیصد پر رکھا جائے گا۔

بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے ایکس پر کہا کہ وہ خوش ہیں کہ امریکہ کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے۔اس شاندار اعلان پر بھارت کے ڈیڑھ ارب عوام کی جانب سے صدر ٹرمپ کا بہت شکریہ۔

 

 

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔