تہران: ایران کے دارالحکومت تہران کے شمال مغربی علاقے میں واقع ‘جنت آباد مارکیٹ’ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے عمارت کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ‘ارنا’ نے تصدیق کی ہے کہ آگ تقریباً 2,000 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی ایک تجارتی عمارت میں لگی۔ اس عمارت میں کپڑوں اور دیگر اشیاء کی لگ بھگ 200 دکانیں موجود تھیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے آگ کے بے رحم شعلوں کی نذر ہو گئیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز، جو قریبی نیایش مال اور شاہراہوں سے فلمائی گئیں، اس سانحے کی سنگینی کو بیان کر رہی ہیں۔
ریسکیو آپریشن اور جانی نقصان: فائر بریگیڈ کے درجنوں عملے نے طویل جدوجہد کے بعد مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے آگ پر قابو پایا۔ خوش قسمتی سے، اس بڑے حادثے میں اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ، تاہم تاجروں کا کروڑوں کا مال جل کر خاکستر ہو چکا ہے، جس سے سینکڑوں چھوٹے کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔
ویڈیوز کی جغرافیائی تصدیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ مناظر حقیقی ہیں، مگر انتظامیہ نے شہر گیر تباہی کی افواہوں کی تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ محض ایک حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ تھی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ مناظر تہران کی اسی مارکیٹ کے ہیں، تاہم اب صورتحال قابو میں ہے اور کسی بڑے پیمانے پر شہر گی تباہی کی خبریں درست نہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos