فائل فوٹو
فائل فوٹو

سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات میں نئی پیش رفت، طیب اردوان ریاض پینچ گئے

ریاض : ترک صدر رجب طیب اردوان منگل کے روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پہنچ گئے ہیں۔ دو سال سے زائد عرصے کے بعد ان کا یہ پہلا اہم دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان تیزی سے بہتر ہوتے ہوئے سفارتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

سعودی میڈیا کے مطابق صدر اردوان اپنے اس دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر کسی خاص ایجنڈے کا اعلان نہیں کیا گیا تاہم ترک خبر رساں ادارے ‘انادولو’ کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

غزہ کی صورتحال اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر بات چیت ہوگی،شام میں بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بننے والی نئی حکومت کی حمایت اور علاقائی استحکام پر مشاورت کی جائے گی۔

ریاض کے بعد صدر اردوان بدھ کے روز قاہرہ (مصر) کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس کے علاوہ، یہ ملاقات 6 فروری کو ترکیہ میں متوقع امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے ایک اہم دور سے چند روز قبل ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ 2018 میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے تھے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے تلخیوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھایا ہے۔ صدر اردوان کا یہ دورہ جولائی 2023 کے بعد پہلا دورہ ہے، جس کا مقصد خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری حاصل کرنا اور علاقائی اتحاد کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کی خبریں بھی زیر گردش ہیں تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق ترکیہ فی الحال سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والے دو طرفہ دفاعی معاہدے میں شامل نہیں ہو رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔