واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما اور سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کے خلاف سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی نسل پرستانہ پوسٹ پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا ہے، حالانکہ شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کے بعد یہ پوسٹ حذف کر دی گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک مختصر ویڈیو شیئر کی گئی، جس میں اوباما میاں بیوی کے چہروں کو جنگلی جانوروں کی تصاویر کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ اس ویڈیو کو مختلف حلقوں نے کھلی نسل پرستی قرار دیا۔ ویڈیو جمعرات کی رات شیئر کی گئی اور چند گھنٹوں بعد تنقید کے باعث ہٹا دی گئی۔
جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی اور ویڈیو صرف دیکھنے کے بعد نامعلوم عملے کو پوسٹ کرنے کے لیے دی گئی تھی۔ وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ یہ پوسٹ عملے کے کسی رکن کی جانب سے شیئر کی گئی اور اعتراضات کے بعد فوری طور پر ہٹا دی گئی۔
ابتدائی طور پر پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے تنقید کو ’جعلی غصہ‘ قرار دیا، تاہم بعد میں وائٹ ہاؤس نے تسلیم کیا کہ یہ پوسٹ نہیں ہونی چاہیے تھی۔ ری پبلکن سینیٹر ٹِم اسکاٹ اور سینیٹر راجر وِکر سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے پوسٹ پر معافی یا وضاحت کا مطالبہ کیا۔ این اے اے سی پی کے صدر ڈیرک جانسن نے اسے ’قابلِ نفرت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ اس تنازع کے ذریعے معاشی اور دیگر معاملات سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ بلیک ہسٹری منتھ کے دوران پیش آیا، جبکہ چند دن قبل ہی ٹرمپ نے سیاہ فام امریکیوں کی خدمات کو سراہنے کا اعلان کیا تھا۔ اوباما کے ترجمان کے مطابق سابق صدر نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos