نئی دہلی: بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایپسٹین فائلز سے متعلق انکشافات اور امریکا کی جانب سے عائد تجارتی پابندیوں کے دباؤ کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پسپائی اختیار کی ہے۔
کانگریس کے مطابق بھارت کا حالیہ تجارتی معاہدہ امریکا کے سامنے دباؤ میں آ کر کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی تیل پر 25 فیصد اضافی ٹیرف کے اعلان کے بعد بھارت نے روسی تیل کی خریداری میں کمی کی، جو بیرونی دباؤ کا واضح اثر ہے۔
رہنماؤں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کے یہ فیصلے محض وقتی نہیں بلکہ بھارتی معیشت اور سفارت کاری پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب کریں گے، اور اس سے بھارت کی خارجہ پالیسی میں پسپائی اور قومی مؤقف سے انحراف واضح ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت نے بھارت کی عالمی سطح پر کمزور حیثیت کو نمایاں کیا ہے اور اس کے خودمختاری کے دعوؤں پر سوالات اٹھائے ہیں۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos