ایران اور امریکا کے درمیان جاری جوہری مذاکرات کے دوران کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے براہِ راست نشانہ بنیں گے۔
عرب میڈیا کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کا میزائل پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں پر کوئی دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق مسقط میں ہونے والی ایران امریکا جوہری مذاکرات کی پہلی نشست کو ابتدائی طور پر مثبت قرار دیا گیا تھا، تاہم مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ تاحال طے نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ اگلی ملاقات آئندہ ہفتے متوقع ہے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان بھی اگلے ہفتے ملاقات طے پا گئی ہے۔ اسرائیلی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ شامل کرنا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران نے مسقط مذاکرات کے دوران امریکا کے یورینیم افزودگی روکنے کے مطالبے کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا، جبکہ میزائل پروگرام پر بات چیت سے بھی انکار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ ابتدائی مذاکرات کو کامیاب کہا جا رہا ہے، لیکن اختلافات کے باعث جوہری مذاکرات کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں۔ ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی اور امریکا اسرائیل روابط میں تیزی نے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos