بیجنگ: چین کی معروف ٹیک کمپنی ‘آٹو فلائٹ’ نے عالمی سطح پر ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ کمپنی نے دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرک اڑنے والی کار "میٹرکس” (Matrix) کی نقاب کشائی کر دی ہے، جو نہ صرف سائز میں بڑی ہے بلکہ جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس بھی ہے۔ یہ پیش رفت چین کی اس وسیع تر معاشی پالیسی کا حصہ ہے جسے "لو-الٹیٹیوڈ اکانومی” (کم بلندی والی معیشت) کا نام دیا گیا ہے۔
فضائی ٹیکسی: 10 مسافروں کی گنجائش اور غیر معمولی رفتار
نئی اڑنے والی کار اپنی خصوصیات کے لحاظ سے ایک چھوٹا جہاز معلوم ہوتی ہے۔وزن اور سائز: اس کا کل وزن 5 ٹن ہے اور اس کے پروں کا پھیلاؤ (Wingspan) 20 میٹر ہے۔
مارکیٹ میں موجود دیگر کمپنیوں کے برعکس، آٹو فلائٹ کی یہ گاڑی بیک وقت 10 مسافروں کو لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔سفر کی حد: یہ گاڑی الیکٹرک پاور پر 250 کلومیٹر، جبکہ ہائبرڈ سسٹم کے ساتھ 1,500 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔
ٹریفک کے مسائل کا حل: گھنٹوں کا سفر منٹوں میں
اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ وقت کی بچت ہے۔ کمپنی کے مطابق، چین کے گنجان آباد شہروں کے درمیان جہاں زمینی سفر میں 3 گھنٹے لگتے ہیں، یہ گاڑی وہی فاصلہ صرف 20 منٹ میں طے کر لے گی۔ یہ گاڑی عمودی طور پر اڑنے اور اترنے (eVTOL) کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کی وجہ سے اسے رن وے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
چین کی معاشی برتری کا نیا ہدف
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اس وقت اڑنے والی گاڑیوں اور ڈرونز کے شعبے میں دنیا کا مرکز بن چکا ہے۔ چینی حکومت کا تخمینہ ہے کہ 2030 تک اس شعبے کی مالیت 2 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر جائے گی۔ "میٹرکس” کی لانچنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں فضائی ٹیکسیاں عام ٹیکسیوں کی طرح سستی اور قابلِ رسائی ہوں گی۔
حفاظتی انتظامات
کمپنی کے ترجمان کے مطابق، گاڑی میں 20 سے زائد آزاد موٹرز نصب کی گئی ہیں۔ اگر دورانِ پرواز کوئی ایک انجن یا موٹر کام کرنا چھوڑ دے، تب بھی گاڑی محفوظ طریقے سے پرواز جاری رکھنے اور زمین پر اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos