فائل فوٹو
فائل فوٹو

مذاکراتی عمل میں فوج کی موجودگی قبول نہیں ، ایران کا امریکہ کو پیغام

تہران: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ عمان میں جمعے کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں امریکی وفد کے ساتھ سینٹکام کے کمانڈر بھی موجود تھے۔

 اتوار کو تہران میں  پریس کانفرنس کے دوران عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی مذاکراتی وفد پر یہ واضح کر دیا تھا کہ ایران کو ’مذاکراتی عمل میں فوج کی موجودگی‘ قبول نہیں اور سیٹکام کمانڈر کی وہاں موجودگی اس ’مقصد کے حصول میں مدد نہیں دے گی‘ جس کے لیے وہ یہاں آئے ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ سینٹکام کمانڈر یہاں کسی بحری جہاز کا معائنہ کرنے آئے ہیں۔امریکیوں نے درخواست کی کہ سینٹکام کمانڈر کو وہاں موجود رہنا دیا جائے، لیکن ہم نے اس کی مخالفت کی۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ایک مشیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین ہونے والی ملاقات ایران پر حملے کے بارے میں ہے۔

مہدی محمدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ٹرمپ اور نتن یاہو مذاکرات کے بجائے آپریشنز پر بات کریں گے۔ اس بارے میں ایران کو کوئی ابہام نہیں ہے۔‘

اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ نتن یاہو بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات پر بات چیت کی جا سکے۔

ایرانی اور امریکی نمائندوں نے کئی ماہ کے وقفے کے بعد جمعے کے روز مسقط میں دوبارہ ملاقات کی، جس میں عمان نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا۔فریقین نے آنے والے دنوں میں مزید مذاکرات پر اتفاق رائے کیا تھا۔

امریکہ اور اسرائیل ایران کو خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر ایران نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو اس پر پھر حملہ کیا جا سکتا ہے۔

عالمی رہنما اور علاقائی ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں پھر سے ایک نیا تنازع کھڑا ہو سکتا ہے جو خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے بعد ایران نے بھی اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔