آئی سی سی ہال آف فیم میں شامل سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ اور معروف بھارتی کمنٹیٹر روی شاستری نے پاکستان کے اسٹار بیٹر بابر اعظم کی حالیہ غیر مستقل کارکردگی پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے افتتاحی میچ میں نیدرلینڈز کے خلاف بابر اعظم 18 گیندوں پر 15 رنز ہی بنا سکے، جس پر دونوں سابق کرکٹرز نے تشویش کا اظہار کیا۔
آئی سی سی ریویو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رکی پونٹنگ نے کہا کہ اگر کوئی بیٹر اتنی زیادہ گیندیں کھیل کر کم رنز بناتا ہے تو اس سے نہ صرف خود اس پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ دوسرے اینڈ پر موجود بیٹر بھی دباؤ میں آ جاتا ہے۔ ان کے مطابق بابر کو اننگز کے آغاز میں ہی باؤنڈریز تلاش کرنا ہوں گی، ورنہ ٹیم کا مومینٹم متاثر ہو سکتا ہے۔
روی شاستری نے بھی بابر پر بڑھتے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کیریئر کے اس مرحلے پر توقعات کا بوجھ کھلاڑی کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بابر کو ابتدائی گیندوں پر جارحانہ انداز اپنانا ہوگا، چاہے اس میں آؤٹ ہونے کا خطرہ ہی کیوں نہ ہو۔
روی شاستری کے مطابق اگر بابر نے جلد خود کو ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے مطابق ایڈجسٹ نہ کیا تو ان پر سوالات میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ اس فارمیٹ میں مڈل اوورز انتہائی اہم ہوتے ہیں اور وقت ضائع کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔
رکی پونٹنگ نے نیدرلینڈز کے خلاف بابر کو نمبر چار پر بیٹنگ کرانے کو بھی دباؤ کی ایک وجہ قرار دیا اور مشورہ دیا کہ انہیں دوبارہ نمبر تین پر بیٹنگ کا موقع دیا جائے تاکہ وہ پاور پلے میں فیلڈنگ پابندیوں سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر بابر کی پاور میں کمی آئی ہے تو ٹیم مینجمنٹ کو ان کے لیے زیادہ سازگار حالات پیدا کرنے ہوں گے۔ پونٹنگ کے مطابق پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ٹورنامنٹ میں آگے بڑھنے کے لیے بابر اعظم کے بہترین ورژن کی ضرورت ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان ٹیم اپنا اگلا میچ 10 فروری کو کولمبو میں امریکا کے خلاف کھیلے گی، جبکہ گروپ مرحلے کا آخری میچ 18 فروری کو نمیبیا کے خلاف ہوگا۔ بھارت کے خلاف 15 فروری کو شیڈول میچ تاحال غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos