بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کا وقت ختم ہوگیا

 

بنگلہ دیش میں 13ویں پارلیمانی انتخابات میں امیدواروں کے لیے انتخابی مہم کا وقت ختم ہو گیا ۔یہ انتخابات جمعرات12 فروری کو ہورہے ہیں۔

 

انتخابی مہم باضابطہ طور پر 22 جنوری کو شروع ہوئی تھی تاہم الیکشن کمیشن کی ہدایات کے تحت اسے ووٹنگ سے 48 گھنٹے قبل ختم کرنا ہوتا ہے۔اس کے مطابق انتخابی مہم کا دورانیہ منگل کی صبح ساڑھے سات بجے ختم ہو گیا۔

بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 14 فروری کی شام ساڑھے 4بجے تک کسی بھی حلقے میں کوئی عوامی اجتماع یا جلسہ نہیں کیا جائے گا۔12 فروری بروز جمعرات صبحساڑھے 7بجے بنگلہ دیش میں ووٹ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہو گا جو شام ساڑھے 4بجے تک مسلسل جاری رہے گا۔ملک کے 300 پارلیمانی حلقوں میں سے 299 میں بیک وقت ووٹنگ ہو گی۔

ڈھاکا سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہے۔انتخابات کے لیے ملک بھر میں فوج تعینات کی گئی ہے۔

سیکیورٹی خدشات کے باعث رات 12 بجے سے تین روز کے لیے موٹر سائیکل چلانے پر ملک گیر پابندی نافذہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام پرامن اور شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

300 پارلیمانی نشستوں کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کے ایک ہزار 981 امیدوار میدان میں ہیں، جن میں بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلادیش جماعتِ اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی شامل ہیں۔250 سے زیادہ آزاد امیدوار ہیں۔

حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 151 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

یہ انتخابات اگست 2024 میں سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور ملک چھوڑنے کے بعد منعقد کیے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔شیخ حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ملک میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ ان انتخابات میں حصہ لینے سے قاصر ہے کیونکہ اس کی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے۔

ایک حالیہ عوامی سروے کے مطابق انتخابات میں سخت مقابلے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سروے میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں قائم اتحاد کو 44.1 فیصد جبکہ بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں بننے والے اتحاد کو 43.9 فیصد ووٹ مل سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔