بنگلہ دیش نے امریکہ سے مل کر بھارتی کپاس کیلئے خطرہ پیدا کردیا

امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدے نے جنوبی ایشیا میں نئی معاشی بحث چھیڑ دی ہے، خاص طور پر انڈیا میں اس پیش رفت کو تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ تقریباً نو ماہ تک جاری مذاکرات کے بعد طے پانے والے اس معاہدے کے تحت امریکہ نے بنگلہ دیش پر عائد محصولات کو 37 فیصد سے کم کر کے 19 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے قبل یہ شرح کم ہو کر 20 فیصد ہو چکی تھی۔

معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق وہ بنگلہ دیشی ملبوسات جو امریکی کپاس یا مصنوعی ریشوں سے تیار ہوں گے، انہیں امریکی منڈی میں داخلے پر صفر محصول کی سہولت حاصل ہوگی۔ بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور برآمدات میں اضافہ متوقع ہے۔

دوسری جانب انڈیا میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ اس کی ٹیکسٹائل اور کپاس کی صنعت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر بنگلہ دیش امریکی خام مال استعمال کرنے لگتا ہے تو انڈین کپاس اور سوتی دھاگے کی برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ بنگلہ دیش اس وقت انڈین سوتی دھاگے کا سب سے بڑا خریدار ہے، اور بڑی مقدار میں کپاس بھی انڈیا سے درآمد کرتا رہا ہے۔

سیاسی حلقوں میں بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صفر محصول کی سہولت بنگلہ دیشی مصنوعات کو امریکی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنا دے گی، جس سے انڈین برآمد کنندگان کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا فوری اثر خاص طور پر سوتی دھاگے کی تجارت پر پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر بنگلہ دیش امریکی کپاس سے مقامی طور پر دھاگا تیار کرنے لگتا ہے تو انڈیا کی موجودہ برتری کم ہو سکتی ہے۔ تاہم کچھ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ طویل مدت میں اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معاہدے پر کس طرح عمل درآمد ہوتا ہے اور عالمی منڈی کی صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی حکمت عملی دو طرفہ معاہدوں کے ذریعے اپنی برآمدات کو فروغ دینا اور مقامی صنعت کو تحفظ دینا ہے۔ ایسے میں جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تجارتی مسابقت مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اس پیش رفت سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم حتمی صورتحال کا اندازہ آنے والے مہینوں میں ہی ہو سکے گا جب اس معاہدے کے عملی نتائج سامنے آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔