فوٹو سوشل میڈیا
فوٹو سوشل میڈیا

بنگلہ دیش: ‘جین زی’ انقلاب کے بعد پہلے تاریخی انتخابات ،پولنگ کا وقت ختم ، ووٹوں کی گنتی شروع

ڈھاکا: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ طویل اقتدار کے خاتمے اور گزشتہ برس آنے والے ‘مون سون انقلاب’ کے بعد آج ملک کے پہلے 13ویں عام انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہو گیا۔

صبح ساڑھے سات بجے شروع ہونے والی پولنگ شام ساڑھے چار بجے (پاکستانی وقت سہ پہر ساڑھے تین بجے) اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد اب ملک بھر کے 42 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز پر ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے وزارت عظمی کےامیدوار ہیں جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے شفیق الرحمان وزارت عظمی کے مضبوط امیدوار ہیں۔

300 پارلیمانی نشستوں کے لیے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی، نیشنل سٹیزن پارٹی اور جماعتی پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں کے امیدواروں میں مقابلہ ہو رہا ہے، حکومت بنانے کے لیے 300 میں سے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا لازم ہے۔

عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ واجد کا اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کرنیوالے جین زی پر مشتمل نیشنل سیٹیزن پارٹی بھی جماعت اسلامی کے اتحاد میں شامل ہے جبکہ پابندی کے سبب عوامی لیگ کے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لےرہے۔

انتخابات میں 299 نشستوں پر 50 سیاسی جماعتوں اور 249 آزاد ارکان سمیت 1981 امیدوار میدان میں ہیں جبکہ حفاظتی انتظامات کے لیے فوج بھی تعینات ہے، ملک بھر میں کل 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل شفاف، آزاد اور غیر جانبدار بنانے کے لیے اقدامات مکمل کرلیے ہیں، شہری آئیں اور اپنی مرضی سے ووٹ ڈالیں۔

پولنگ شروع ہونے سے پہلے ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد ووٹ کاسٹ کرنے پہنچ گئی، پاکستانی وقت کے مطابق پولنگ ساڑھے تین بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گی، پارلیمنٹ میں 50نشستیں خواتین کیلئے مخصوص ہیں۔

ان انتخابات کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ شہریوں نے پارلیمانی نمائندوں کے انتخاب کے ساتھ ساتھ ایک قومی ریفرنڈم میں بھی حصہ لیا۔ ووٹرز سے ‘جولائی نیشنل چارٹر’ کے متعلق رائے مانگی گئی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں کسی بھی آمرانہ نظام کا راستہ روکنا ہے۔

ریفرنڈم کے اہم نکات میں شامل ہیں،جن میں وزیر اعظم کی مدتِ ملازمت کو زیادہ سے زیادہ 10 سال (دو بار) تک محدود کرنا،آئین میں ترامیم کے لیے ایوانِ بالا (Upper House) کی منظوری لازمی قرار دینا اورانتخابات کے لیے غیر جانبدار نگران حکومت کے نظام کی مستقل بحالی شامل ہیں۔

عوامی لیگ پر پابندی کے باعث اس بار مقابلہ روایتی حریفوں کے بجائے نئے اتحادوں کے درمیان ہے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP): طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ طارق رحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں اسے ‘خوف سے آزادی کا دن’ قرار دیا۔

جماعتِ اسلامی و اتحادی: جماعتِ اسلامی نے نوجوانوں کی ‘نیشنل سٹیزن پارٹی’ کے ساتھ مل کر ایک طاقتور 11 رکنی اتحاد تشکیل دیا ہے، جو کئی حلقوں میں بی این پی کو سخت ٹکر دے رہا ہے۔

 سیکیورٹی کے لیے تاریخ کی سب سے بڑی تعیناتی کی گئی، جس میں فوج، پولیس اور ریپڈ ایکشن بٹالین کے 9 لاکھ 50 ہزار سے زائد اہلکار شامل تھے۔ پہلی بار ڈرونز اور باڈی کیمروں کے ذریعے نگرانی کی گئی۔ اگرچہ مجموعی طور پر پولنگ پرامن رہی، لیکن منشی گنج، کومیلا اور بھولا کے علاقوں میں دھماکوں اور تصادم کے اکا دکا واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ شیر پور میں بیلٹ بکس چھیننے کی کوشش پر پولنگ کچھ دیر کے لیے معطل رہی۔

عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ "ہم نے ڈراؤنے خواب کا خاتمہ کر کے ایک نئے خواب کی بنیاد رکھ دی ہے”۔ غیر سرکاری ابتدائی نتائج رات گئے تک موصول ہونا شروع ہو جائیں گے، جبکہ مکمل نتائج کا اعلان کل متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔