لاہور: پنجاب میں حکومت نے کم عمری میں شادیوں کی روک تھام کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔
پنجاب کے گورنر سردار سلیم حیدر خان کی جانب سے جاری کیے گئے آرڈیننس کے تحت کم عمری کی شادی کو ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں سندھ، بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی پہلے ہی شادی کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے قانون کی منظوری دے چکی ہیں۔
پنجاب میں قانون سازی کے بعد اب صرف خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جہاں تاحال اس بارے میں کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ’پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس‘ 2026 صوبے بھرمیں نافذ العمل ہو گیا ہے۔
اس آرڈیننس کے بعد ’پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ آرڈیننس‘ 1929 ختم ہو گیا ہے جس کے تحت مردوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال اور خواتین کے لیے 16 سال مقرر تھی۔
آرڈیننس کے تحت کم عمری کی شادی کے بعد ہونے والے ازدواجی تعلقات کو ’چائلڈ ابیوز‘ یعنی بچوں کے ساتھ بدسلوکی قرار دیا گیا ہے جس کی کم سے کم سزا پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید ہے اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
قانون کے تحت عدالتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ 90 دن کے اندر اندر سماعت مکمل کر کے فیصلہ سنائیں۔
نئے قانونی فریم ورک کے تحت نکاح خواں حضرات کم عمر جوڑوں کا نکاح رجسٹرڈ نہیں کر سکتے اور خلاف ورزی کی صورت میں انھیں ایک سال تک قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اسی طرح کسی بچے سے شادی کرنے اور کروانے میں معاونت میں ملوث افراد کو کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال کی جیل اورایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی سرپرست یا کوئی اور شخص قانونی حیثیت میں ہو یا غیر قانونی طور پر، کم عمری کی شادی یا بچوں کے استحصال کو فروغ دے، اسے انجام دینے کی اجازت دے، یا جان بوجھ کر یا غفلت کے سبب اسے روکنے میں ناکام رہے تو اسے زیادہ سے زیادہ تین سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
آرڈیننس میں ان تمام چیزوں کو قابلِِ سزا جرم قرار دیا گیا جس میں ضمانت اور راضی نامہ بھی نہیں ہو سکے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ قوانین میں تبدیلی کا مقصد پنجاب میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کو بہتر بنانا، شادی کی کم از کم عمر میں صنفی امتیاز کا خاتمہ کرنا اور بچوں کے استحصال کے خلاف قانونی تحفظ کو مضبوط کرنا ہے۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos