فائل فوٹو
فائل فوٹو

کھلنا میں پولنگ اسٹیشن پر جھگڑا، بی این پی کا سابق عہدیدار جاں بحق

کھلنا: بنگلہ دیش کے شہر کھلنا میں ووٹنگ کے دوران پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے میں بی این پی کے سابق دفتر سیکریٹری محب الزمان کوچی جان کی بازی ہار گئے، جب کہ واقعے پر بی این پی اور جماعتِ اسلامی کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

یہ واقعہ جمعرات کی صبح تقریباً 9 بجے کھلنا عالیہ مدرسہ کے پولنگ سینٹر میں پیش آیا۔ بی این پی کے مطابق محب الزمان کوچی ووٹ ڈالنے کے لیے سینٹر پہنچے تھے، جہاں انہوں نے پولنگ کے اندر انتخابی مہم پر اعتراض کیا۔ الزام ہے کہ اس دوران جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے انہیں دھکا دیا، جس سے وہ گر پڑے اور سر میں شدید چوٹ آئی۔ بعد ازاں انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

بی این پی میٹروپولیٹن میڈیا سیل کے کنوینر میزان الرحمن نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ محب الزمان کوچی طویل عرصے سے دل کے عارضے میں مبتلا تھے اور صبح سویرے ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ ان کے مطابق پولنگ سینٹر میں صبح سے ہی کشیدگی پائی جا رہی تھی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عالیہ مدرسہ کے پرنسپل عبد الرحیم، جو مبینہ طور پر جماعت کی انتخابی مہم میں شامل تھے، اور ان کے ساتھیوں نے مداخلت پر کوچی کو دھکا دیا، جس سے وہ ایک درخت سے ٹکرا گئے۔

واقعے پر مدرسہ کے پرنسپل عبد الرحیم میاں کا مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔ تاہم جماعتِ اسلامی کی جانب سے سینٹر ڈائریکٹر محبوب الرحمان نے صحافیوں کو بتایا کہ بی این پی کے حامی ان کی خواتین کارکنوں کو زبردستی پولنگ سینٹر سے نکالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کے مطابق مداخلت کے دوران ایک شخص کی طبیعت خراب ہوئی اور بعد میں ان کی موت کی اطلاع ملی، تاہم کسی قسم کے تشدد یا دھکے سے انکار کیا گیا۔

دوسری جانب بی این پی کے نامزد امیدوار نذر الاسلام نے کہا کہ کھلنا میں بی این پی پر غم کی فضا چھا گئی ہے۔ ان کا الزام تھا کہ جماعت کے ایک رہنما کے حملے کے نتیجے میں محب الزمان کوچی جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے مدرسہ کے پرنسپل اور ان کے ساتھیوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔