امریکی سرزمین پر ایک امریکی شہری کے مبینہ قتل کی سازش کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی شہری کھل گپتا نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں اعتراف جرم کر لیا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 54 سالہ گپتا نے قتل برائے اجرت، قتل کی سازش اور منی لانڈرنگ کی سازش کے تین الزامات قبول کیے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم نے بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” سے وابستہ ایک اہلکار کی ہدایت پر امریکہ میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنن کو قتل کرانے کی کوشش کی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق گپتا نے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کی جسے وہ پیشہ ور قاتل سمجھ رہا تھا، تاہم وہ درحقیقت امریکی ادارے امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن(DEA) کا خفیہ اہلکار تھا۔ حکام کے مطابق قتل کی پیشگی ادائیگی کے طور پر رقم کی ادائیگی کا بندوبست بھی کیا گیا تھا۔
امریکی حکام کے مطابق اس کیس کی تحقیقات میں **فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن(FBI) اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے تعاون کیا۔ گپتا کو 30 جون 2023 کو جمہوریہ چیک میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں امریکہ کے حوالے کیا گیا۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ قتل برائے اجرت اور سازش کے الزامات پر زیادہ سے زیادہ 10، 10 سال جبکہ منی لانڈرنگ کی سازش پر 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ حتمی سزا کا تعین عدالت کرے گی۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق جون 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجرکو ایک گردوارے کے باہر قتل کر دیا گیا تھا۔ امریکی حکام اس واقعے اور نیویارک میں مبینہ سازش کے درمیان ممکنہ روابط کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی اٹارنی جنرل جے کلیٹن نے بیان میں کہا کہ امریکہ میں کسی بھی شہری کو اس کے آئینی حقوق کے استعمال پر نشانہ بنانے کی کوشش برداشت نہیں کی جائے گی اور قانون کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔
Ummat News Latest Urdu News in Pakistan Politics Headlines Videos