چین کا برطانیہ اور کینیڈا کے شہریوں کے لیے ویزا فری سفر کی سہولت کا اعلان

February 15, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

بیجنگ: چین نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اور کینیڈا کے شہری 17 فروری سے مین لینڈ چین میں 30 دن تک بغیر ویزا کے سفر کر سکیں گے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق ویزا فری داخلہ سیاحت، کاروبار یا اہلِ خانہ اور دوستوں سے ملاقات کے لیے ہوگا، اور یہ پالیسی ابتدائی طور پر 31 دسمبر تک نافذ رہے گی۔

یہ فیصلہ برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر سٹارمر کے گذشتہ ماہ چین کے سرکاری دورے کے بعد سامنے آیا، جہاں ان کی ملاقات صدر شی جن پنگ سے ہوئی اور دونوں رہنماؤں نے سفر کے قوانین میں نرمی پر اتفاق کیا تھا۔

سر کیئر سٹارمر نے کہا کہ اس معاہدے سے برطانوی کاروباروں کو چین میں توسیع کرنے میں آسانی ہوگی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش میں انسانی حقوق اور قومی سلامتی کے خدشات کو نظر انداز کر رہی ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو پالیسی کے آغاز کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’چین اور دیگر ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید آسان بنائے گا۔‘

اس فیصلے کے بعد برطانیہ اور کینیڈا کے پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے قوانین 50 دیگر ممالک کے برابر ہو گئے ہیں، جن میں فرانس، جرمنی، اٹلی، آسٹریلیا اور جاپان شامل ہیں۔

برطانیہ کے دفترِ شماریات کے مطابق سنہ 2024 میں تقریباً چھ لاکھ 20 ہزار برطانوی شہری چین گئے تھے، اور اب لاکھوں افراد اس نئی پالیسی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

جنوری میں چین کے دورے کے دوران برطانوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ برطانوی کاروبار ’چین میں اپنی موجودگی بڑھانے کے طریقوں کے لیے بے تاب ہیں۔‘ اس دورے میں دونوں ممالک نے خدمات، صحت، گرین ٹیکنالوجی اور مالیات کے شعبوں میں تجارتی تعلقات کو گہرا کرنے پر اتفاق کیا، تاہم کوئی جامع آزاد تجارتی معاہدہ نہیں ہوا۔

یہ دورہ سنہ 2018 میں وزیرِاعظم ٹریزا مے کے بعد کسی برطانوی وزیرِاعظم کا پہلا دورہ تھا، جسے کچھ حزب اختلاف کے رہنماؤں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔

دورے سے قبل سر کیئر سٹارمر کی حکومت نے لندن کے مرکزی علاقے میں ایک بڑے نئے چینی سفارتخانے کے منصوبے کی منظوری دی تھی، جس پر مخالفین نے اعتراض کیا کہ یہ جاسوسی کے لیے استعمال ہو سکتا ہے اور سلامتی کے خطرات پیدا کر سکتا ہے۔