حماس 60 روز میں ہتھیار ڈال دے ورنہ یہ مشن ہماری فوج پورا کرے گی؛ اسرائیل
تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس کے پاس اسلحہ ڈالنے کے لیے 60 دن ہیں بصورت دیگر اسرائیلی فوج کارروائی مکمل کرے گی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس بات کا انکشاف اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے قریبی معاون اور کابینہ سیکریٹری یوسی فوکس نے حالیہ انٹرویو میں کیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ 60 روز کی یہ مہلت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی درخواست پر دی جا رہی ہے اور اسرائیل نے امریکی درخواست کا احترام کیا ہے۔
یوسی فوکس نے کہا کہ اس عرصے میں حماس کو تمام اسلحہ، حتیٰ کہ رائفلیں اور اے کے-47 بھی مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کرنا ہوں گی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے مزید کہا کہ اسرائیل اس عمل کا جائزہ لے گا اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوا تو بہتر ورنہ فوج کو اپنا مشن مکمل کرنا پڑے گا۔
کابینہ سیکریٹری کے بقول ایک معقول اندازہ ہے کہ ممکنہ طور پر جون میں ہونے والے اسرائیلی انتخابات سے پہلے یا تو حماس ہتھیار ڈال دے گی یا پھر غزہ میں شدید قسم کی فوجی کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل میں حماس کی تیار کردہ تمام سرنگوں کو بھی تباہ کرنا بھی شامل ہے حتیٰ کہ سرحد کے اسرائیلی حصے میں موجود سرنگیں بھی ختم کی جائیں گی۔
غزہ سرحد کے قریب واقع کیبوتس بیئری کا حوالہ دیتے ہوئے یو سی فوکس نے کہا کہ آج وہاں کھیتوں میں ہل چلانے والا شخص سمندر دیکھ سکتا ہے۔
اُن کے بقول یہ اس بات کی علامت ہے کہ غزہ میں بلند عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں تاہم ان کے بقول کام ابھی مکمل نہیں ہوا۔
خیال رہے کہ ابھی واضح نہیں کہ اس 60 روزہ مدت کا آغاز کب سے ہوا اور نہ ہی اس بارے میں اسرائیلی وزیراعظم، امریکی صدر اور حماس کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔