مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قبضے کے اقدام کی دنیا بھر میں مذمت
مقبوضہ مغربی کنارے میں زمین کو نام نہاد ’ریاستی اراضی‘ قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر دنیا کے تقریباً 100 ممالک اور تین بڑے عالمی و علاقائی بلاکس نے سخت مذمت کی ہے۔عرب لیگ، یورپی یونین اور او آئی سی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے۔ فلسطینی مشن کے مطابق یہ اقدام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرنے اور دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔آٹھ رکنی مسلم بلاک کے وزرائے خارجہ نے بھی اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن اور آبادکاری کے نئے طریقہ کار کی منظوری کی مذمت کی ہے۔اسرائیلی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ایسے اقدامات کی منظوری دی ہے جن کے تحت ویسٹ بینک کے ایریاز اے اور بی میں اسرائیلی سول اختیار کو بڑھایا جائے گا، جو مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد علاقے پر مشتمل ہیں۔ اسرائیلی این جی او ’پیس ناؤ‘ نے خبردار کیا ہے کہ یہ منصوبہ یروشلم کی حدود کو مغربی کنارے تک وسعت دینے کے مترادف ہو سکتا ہے۔تنظیم کے مطابق یہ توسیع جیووا بنیامین نامی بستی کے مغرب کی جانب ہوگی اور یروشلم سے جوڑی جائے گی، حالانکہ اس کا براہِ راست جغرافیائی تعلق موجودہ بستی سے نہیں ہوگا۔مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے سینئر امام شیخ محمد العباسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں مسجد کے احاطے میں داخلے سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا ہے، اور اس پابندی میں توسیع بھی ممکن ہے۔یہ اقدام ماہ رمضان سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے یروشلم داخلے کے 10 ہزار اجازت ناموں کی سفارش کر رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیش رفت خطے میں کشیدگی بڑھا سکتی ہے اور امن عمل کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہے۔