بنگلہ دیش کی ناکہ بندی سے بچنے کیلئے سرنگ بنانے کا بھارتی منصوبہ
انڈیا شمال مشرقی ریاستوں کے لیے سٹریٹیجک ’چکن نیک‘ راہداری میں 36 کلومیٹر طویل زیر زمین سرنگ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
انڈیا شمال مشرقی ریاستوں کو باقی ملک سے جوڑنے والے انتہائی اہم اور تنگ راستے، جسے چکن نیک یا شِلی گُری راہداری کہا جاتا ہے، میں ایک طویل زیر زمین سرنگ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ اس سرنگ میں ریلوے کی پٹڑیاں بچھانے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہیں، جس سے نہ صرف مسافروں اور سامان کی نقل و حرکت آسان ہوگی بلکہ فوجی ساز و سامان اور جوانوں کی حفاظت کے ساتھ تیز تر نقل و حمل ممکن ہوگی۔
اس منصوبے کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے دو متوازی سرنگیں بنائی جائیں گی اور جدید مواصلاتی نظام بھی نصب کیا جائے گا۔ منصوبے کی مجموعی لاگت 12 ہزار کروڑ روپے تخمینہ ہے۔ اس کے قریب موجود فوجی اڈے اور بین الاقوامی سرحدیں اس منصوبے کی سٹریٹیجک اہمیت کو مزید بڑھاتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سرنگ نہ صرف شمال مشرقی ریاستوں کے لیے ریلوے رابطہ محفوظ کرے گی بلکہ قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں امدادی سامان کی رسائی بھی بہتر بنائے گی۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ انڈیا کے اقتصادی اور دفاعی نقطہ نظر سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
انڈیا کی کابینہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے اسی نوعیت کے ایک اور منصوبے کی بھی منظوری دی ہے، جس میں آسام میں برہما پترا دریا کے نیچے 16 کلومیٹر طویل سرنگ بنائی جائے گی، جہاں ٹرین اور دیگر گاڑیاں دونوں گزر سکیں گی۔
یہ سرنگ شمال مشرقی ریاستوں کو باقی ملک سے مربوط رکھنے، فوجی اور شہری نقل و حمل کی حفاظت، اور علاقے کی اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔