شہباز شریف کو پسند کرتا ہوں، فیلڈ مارشل عظیم شخص ہیں ، صدر ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عالمی رہنماؤں سے میرے بہت اچھے تعلقات ہیں، تمام سربراہان کو امن بورڈ اجلاس میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ اجلاس کے افتتاحی ملاقات میں خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو پسند کرتا ہوں، پاکستان کے فیلڈ مارشل عظیم شخص ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں نے 8 جنگیں ختم کروائیں، نویں جنگ خاتمے کے قریب ہے، پائیدار امن کےلیے غزہ امن بورڈ اہم فورم ہے، ہمارے امن بورڈ کی طرح مضبوط اور اہم دوسرا کوئی بورڈ موجود نہیں، اس میں دنیا کے اہم ممالک شامل ہوئے ہیں، اپنے اہداف اور اہمیت کے حوالے سے امن بورڈ کا کوئی متبادل نہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں، آرمینیا اور آذربائیجان نے امن کا انتخاب کرتے ہوئے معاہدہ کیا۔
امریکی صدرنے اپنے خطاب میں ایک بار پھر پاک بھارت جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ شدت اختیار کر رہی تھی، ہم نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے پاک بھارت جنگ رکوائی، بھارتی وزیراعظم مودی کو بتا دیا تھا کہ جنگ نہ روکی تو بھاری ٹیرف لگائیں گے، پاک بھارت جنگ میں 11 جیٹ طیارے گرائے گئے۔
غزہ میں کون کون سے ممالک اپنی فورسز بھیجیں گے؛ صدر ٹرمپ نے بتایا
امریکی صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انڈونیشیا، مراکش، البانیہ، کوسوو اور قازقستان غزہ میں سیکیورٹی کے لیے قائم کی گئی عالمی استحکامی فورس کے لیے اپنی اپنی فوج اور پولیس بھیجیں گے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی استحکامی فورس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنے والے ان ممالک کا نام لے کر شکریہ بھی ادا کیا اور ان کے تعاون کو سراہا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ ممالک غزہ میں سیکیورٹی، نظم و نسق اور انسانی امداد کے تحفظ میں کردار ادا کریں گے جب کہ مصر اور اردن بھی اس عمل میں انتہائی اہم تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ مصر اور اردن ایک قابلِ اعتماد فلسطینی پولیس فورس کے قیام کے لیے فوج، تربیت اور مکمل تعاون فراہم کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ عالمی استحکامی فورس میں شامل ہونے کے خواہش مند ممالک نے اس شرط پر آمادگی ظاہر کی ہے کہ ان کے دستے محدود نوعیت کے امن مشنز انجام دیں گے، جن میں سرحدی نگرانی، امدادی قافلوں کا تحفظ اور حساس تنصیبات کی حفاظت شامل ہیں۔
امریکی حکام کے بقول ان ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے آپریشنز میں حصہ نہیں لینا چاہتے جن میں حماس یا دیگر مزاحمت پسند گروہوں سے براہِ راست لڑائی اور اسلحہ ضبط کرنے جیسے اقدامات شامل ہوں۔
خیال رہے کہ غزہ امن بورڈ کا اجلاس ڈونلڈ ٹرمپ انسٹیٹیوٹ آف پیس میں ہو رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف غزہ امن بورڈ اجلاس میں شریک ہیں۔