اسرائیل نے فلسطینیوں پر جاسوسی ہتھیار آزمائے، ایپسٹین دوسرے ملکوں کو بیچتا رہا
امریکی محکمہ انصاف کی جاری کردہ ای میلز پر مبنی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سزا یافتہ امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین اور اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے ایک دہائی سے زائد عرصے تک نائیجیریا میں بدامنی کو کاروباری موقع بنا کر فلسطینی علاقوں میں آزمائی گئی نگرانی ٹیکنالوجی فروخت کی۔
ڈراپ سائٹ نیوز کی تحقیق کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ای میلز سے پتا چلتا ہے کہ مرحوم سرمایہ کار جیفری ایپسٹین اور اسرائیلی سیاست دان ایہود باراک نے بوکو حرام کی بغاوت کو بنیاد بنا کر نائیجیریا کے حکام کو “فیلڈ پروون” سکیورٹی حل پیش کیے۔ “فیلڈ پروون” کی اصطلاح ان نظاموں کے لیے استعمال کی گئی جو اسرائیلی فوج مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں استعمال کر چکی تھی۔
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سکیورٹی معاہدے وسیع تر تجارتی مفادات تک رسائی کا ذریعہ بنتے تھے، جن میں لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اور توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری شامل تھی۔ ان انکشافات کے چند روز بعد اماراتی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین سلطان احمد بن سلیم نے 13 فروری کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جب ایپسٹین سے قریبی تعلقات منظر عام پر آئے۔
ای میلز کے مطابق ایپسٹین اور باراک نے مغربی افریقہ میں بڑھتے تشدد کو انسانی بحران کے بجائے کاروباری موقع سمجھا۔ 2014 میں شام، لیبیا اور صومالیہ میں بدامنی سے متعلق ایک ای میل میں ایپسٹین نے باراک کو لکھا: “کیا یہ تمہارے لیے بہترین موقع نہیں؟” جس پر باراک نے جواب دیا: “ایک لحاظ سے تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن اسے نقد آمدن میں بدلنا آسان نہیں۔”
فلسطینیوں پر آزمائی گئی ٹیکنالوجی
فائلوں میں تفصیل دی گئی ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کمپنیوں نے اپنی ٹیکنالوجی نائیجیریا کو فروخت کرتے وقت “فیلڈ پروون” جیسی اصطلاحات استعمال کیں، جس سے مراد وہ نظام تھے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آزمائے گئے تھے۔ 2015 میں باراک اور ان کے ایک کاروباری شراکت دار نے ایف ایس ٹی بایومیٹرکس نامی کمپنی میں ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یہ کمپنی اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ اہارون زیوی فرکاش نے قائم کی تھی۔
کمپنی کا بنیادی بایومیٹرک نظام “باسل” کہلاتا تھا، جسے ابتدائی طور پر غزہ کی پٹی کے محصور علاقے اور اسرائیل کے درمیان بیت حانون (ایریز) کراسنگ پر فلسطینی مزدوروں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
جب نائیجیریا کی فوج بوکو حرام کے خلاف برسرپیکار تھی، باراک نے اسی نوعیت کا بایومیٹرک نگرانی کا نظام نائیجیریا کی بیبکاک یونیورسٹی کو فروخت کرنے میں کردار ادا کیا۔ اس منصوبے کو انسداد دہشت گردی اقدام قرار دیا گیا اور ایک پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ٹیکنالوجی “تمام ناپسندیدہ افراد کو فلٹر کر دے گی”۔
ای میلز سے اشارہ ملتا ہے کہ اس ابتدائی قدم نے اسرائیلی سائبر مہارت کو نائیجیریا کے ریاستی ڈھانچے میں جگہ دلائی۔ 2020 تک عالمی بینک نے اسرائیل کے نیشنل سائبر ڈائریکٹوریٹ اور باراک کی شریک قائم کردہ ایک اسٹارٹ اپ کو نائیجیریا کے قومی سائبر انفراسٹرکچر کی تشکیل میں شامل کیا۔
تیل اور بندرگاہوں تک رسائی
دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی تعاون اکثر نائیجیریا کے وسیع قدرتی وسائل تک رسائی کا ذریعہ بنتا تھا۔ ایپسٹین نے ڈی پی ورلڈ کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں سہولت کاری کی، جن کا مقصد لاگوس اور باڈگری کی بندرگاہوں کی ملکیت حاصل کرنا تھا۔
2018 کے موسم گرما میں ایپسٹین نے نائیجیریا کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ کے اس وقت کے چیئرمین جائیڈ زائٹلِن اور سلطان بن سلیم کے درمیان بات چیت کرائی۔ ای میلز سے معلوم ہوتا ہے کہ ایپسٹین کان کنی کے شعبے سے وابستہ شخصیات پر عائد امریکی پابندیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سودوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
ستمبر 2018 میں زائٹلِن نے ایپسٹین کو لکھا: “امید ہے تل ابیب میں آپ کے دوست کا قیام افریقی براعظم میں اس کی کوششوں سے زیادہ مؤثر رہا ہوگا”، جس سے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات کی خاموش کوششوں کا اشارہ ملتا ہے، جو بعد میں ابراہام معاہدوں کی صورت میں سامنے آئیں۔
نائیجیریا میں رسوخ
خط و کتابت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایپسٹین اور باراک نے نائیجیریا کی حکومت کے اندر غیر معمولی رسائی حاصل کر لی تھی۔ 2013 میں باراک نے ابوجا میں ایک سائبر سکیورٹی کانفرنس میں شرکت کی، جسے منتظمین نے نجی طور پر اس وقت کے صدر گڈ لک جوناتھن سے ملاقاتوں کا ذریعہ قرار دیا۔ ایک منتظم نے باراک کو لکھا کہ یہ عشائیہ “اسرائیل کے اچھے دوستوں سے ملنے اور اسرائیل کے لیے نئے دوست بنانے کا بہترین موقع ہے”۔
ان ملاقاتوں کے بعد اسرائیلی دفاعی کمپنی ایلبٹ سسٹمز نے نائیجیریا میں متنازع انٹرنیٹ نگرانی منصوبے پر کام آگے بڑھایا، حالانکہ ملکی پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کی گئی تھی۔
دستاویزات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ایپسٹین باراک کو مشورے دیتا تھا کہ سکیورٹی تعلقات کو ذاتی فائدے میں کیسے بدلا جائے۔ ایک ممکنہ تیل کے معاہدے کی مالی تفصیلات پر باراک کے پیغام کے جواب میں ایپسٹین نے سخت لہجے میں لکھا: “میں نے تمہیں فون پر کہا تھا کہ کسی کو بھیجنے یا پوچھنے سے پہلے خود ہوم ورک کرو۔”
اسرائیل سے روابط پر سوالات
لاکھوں دستاویزات کے اجرا کے بعد ایپسٹین کے اسرائیل سے روابط دوبارہ توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ فائلوں میں ایپسٹین کے اسرائیلی فوج کے حامی گروپوں اور آبادکار تنظیم جیوش نیشنل فنڈ کو مالی معاونت کا ذکر بھی ہے، جبکہ اسرائیل کی بیرون ملک انٹیلی جنس سروس موساد سے روابط کے حوالے بھی شامل ہیں۔
ایہود باراک، جو 1999 سے 2001 تک اسرائیل کے وزیر اعظم رہے، نے ایپسٹین سے طویل تعلقات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تاہم 2008 میں کم عمر لڑکی کو جسم فروشی کے لیے فراہم کرنے کے جرم میں سزا یافتہ ایپسٹین کے ساتھ قریبی ذاتی اور کاروباری تعلق برقرار رکھنے کے باوجود باراک کا کہنا ہے کہ انہیں 2019 میں وسیع تحقیقات شروع ہونے تک ایپسٹین کے جرائم کی مکمل نوعیت کا علم نہیں تھا۔