اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ پڑھنے سے روک دیا

February 20, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا
فائل فوٹو

یروشلم/رام اللہ: رمضان المبارک کے پہلے جمعہ کے موقع پر اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے سے آنے والے ہزاروں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ پہنچنے اور نمازِ جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔ قابض انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ سخت شرائط اور رکاوٹوں کے باعث مقبوضہ بیت المقدس کی فضائیں سوگوار رہیں۔

اسرائیلی حکام نے رمضان کے مقدس مہینے میں بھی فلسطینیوں کی مذہبی آزادی سلب کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں داخلے کے لیے انتہائی سخت عمر کی حد مقرر کر دی ہے۔

 55 سال سے کم عمر مردوں اور 50 سال سے کم عمر خواتین کے مسجد میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد عبادت سے محروم رہی۔

محض 10 ہزار افراد کو پرمٹ کے ذریعے داخلے کی اجازت دی گئی، جو کہ مغربی کنارے کی 33 لاکھ آبادی کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

رپورٹس کے مطابق قلندیہ اور دیگر فوجی چیک پوائنٹس پر فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد جمع تھی، لیکن اسرائیلی فوج نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سالوں میں جہاں ڈھائی لاکھ (2.5 لاکھ) نمازی مسجد اقصیٰ پہنچتے تھے، وہاں آج محض چند ہزار لوگوں کو ہی رسائی دی گئی۔

چیک پوائنٹس پر اسرائیلی فوج کی بھاری نفری تعینات رہی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صبح سے ہی بوڑھے اور بچے سڑکوں پر خوار ہوتے رہے، لیکن سیکیورٹی کے نام پر انہیں اپنے مقدس ترین مقام پر سجدہ کرنے سے روک دیا گیا۔